Surah Al Qiyamah Ayat 5 (75:5)
The Resurrection · Juz 29 · Makki
بَلْ یُرِیْدُ الْاِنْسَانُ لِیَفْجُرَ اَمَامَهٗ 5
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariبلکہ آدمی چاہتا ہے کہ وہ اپنے آگے کو جھٹلائے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبلکہ آدمی چاہتا ہے کہ اس کی نگاہ کے سامنے بَدی کرے ۔
Tafseer (Urdu)
{بل یرید الانسان: بلکہ آدمی چاہتا ہے۔} مفسرین نے اس ایت کے مختلف معنی بیان کئے ہیں ان میں سے 3 معانی درج ذیل ہیں : (1)…اس کا معنی یہ ہے کہ انسان کا مرنے کے بعد اٹھائے جانے کا انکار کرنا کسی شبہے اور دلیل نہ ہونے کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ حال یہ ہے کہ وہ سوال کرنے کے باوجود بھی اپنی بدی پر قائم رہنا چاہتا ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ وہ مذاق اڑانے کے طور پر پوچھتا ہے کہ قیامت کا دن کب ہوگا ۔ (2) …حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا: اس آیت کے معنی یہ ہیں کہ آدمی مرنے کے بعد اٹھائے جانے اور قیامت کے دن حساب ہونے کو جھٹلاتا ہے حالانکہ یہ اس کے سامنے ہے ۔ (3)…حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں :اس ایت کے معنی یہ ہیں کہ آدمی گناہ کو مقدم کرتا ہے اور توبہ کو موخر کرتا ہے اور یہی کہتا رہتا ہے کہ اب توبہ کروں گا اب عمل کروں گا یہاں تک کہ اسے موت آجاتی ہے اور وہ اپنی بدیوں میں ہی مبتلا ہوتا ہے۔( جلالین مع جمل القیامۃ تحت الایۃ: ۵ ۸ / ۱۷۳-۱۷۴ خازن القیامۃ تحت الایۃ: ۵ ۴ / ۳۳۴ ملتقطا) توبہ میں تاخیر کا مرض : فی زمانہ مسلمانوں کی ایک تعداد ایسی ہے جس میں یہ مرض پایا جاتا ہے کہ انہیں گناہوں سے رک جانے اور ان سے توبہ کرنے کی ترغیب دی جائے اور شریعت کے احکامات پر عمل کرنے کا کہا جائے تو اگے سے یہ جواب دیتے ہیں کہ بھیا! ابھی تو بہت عمر پڑی ہے جب بڑھاپا ائے گا تو گناہوں سے توبہ بھی کر لیں گے نمازیں بھی شروع کر دیں گےروزے بھی رکھنے لگیں گے داڑھی بھی رکھ لیں گے اور اللہ اللہ کرنے میں مصروف ہو جائیں گے لیکن ابھی تو ہم جوان ہیں ابھی توہمارے عیش کرنے کے دن ہیں اورابھی تو ہم نے دنیا دیکھی ہی کیا ہے جو ان چیزوں میں مصروف ہو جائیں اور بعض مسلمان تو ایسے بھی نظر اتے ہیں کہ اگر ان کی اولاد میں سے کوئی جوانی میں گناہوں سے دور بھاگنے لگے نیکیوں کی طرف راغب ہونے لگےچہرے پہ داڑھی شریف سجا لے نماز روزے کی پابندی شروع کر دے اور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی سنتوں پر عمل کرنے لگے تو اسے عمر لمبی ہونے کا کہہ کر ان چیزوں سے روکنے کی کوشش کرتے ہیں اور طرح طرح سے اسے سمجھاتے ہیں مرنے یا ماردینے کی دھمکیا ں دیتے ہیں اور اسے گناہوں بھری زندگی میں لوٹانے کے پورے پورے جتن کرتے ہیں اور اگر وہ ان کی باتوں میں نہ ائے تو اسے گھر سے نکال دیتے اوراس کا سوشل بائیکاٹ کر دیتے ہیں گویا کہ ان کے نزدیک اسلام کے احکام پر عمل کرنا ایسا سنگین جرم ہے جو ا س وقت تک معافی کے قابل نہیں جب تک وہ ان احکام پر عمل کرنا چھوڑ نہیں دیتا۔مسلمانوں کی گناہوں میں مشغولیت توبہ اور اپنی اصلاح سے دوری اور اسلام کے احکامات پر عمل نہ کرنے کا دنیوی نتیجہ اج سب کے سامنے ہے کہ مسلمان دنیا بھر میں کمزور اور مغلوب نظر ا رہے ہیں اور کفار مسلم ممالک پر حملے کر کے ا ن کی اینٹ سے انیٹ بجا رہے ہیں جبکہ اخرت میں ا س چیزکا انجام کیا ہو گا وہ اللہ تعالی ہی بہتر جانتا ہے۔ وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہو کر ہم خوار ہوئے تارک قراں ہو کر توبہ میں تاخیر کرنے کے حوالے سے امام محمد غزالی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں : ’’ایمان دار توبہ کرنے کی خواہش تو رکھتا ہے لیکن محض سستی اور کاہلی کے باعث اس سے توبہ کرنے میں تاخیر ہو رہی ہوتی ہے اور وہ دل ہی دل میں کہتا جاتا ہے کہ میں کل توبہ کر لوں گا ابھی یہ خواہش تو پوری کر لوں بعد میں اس کا نام تک نہ لوں گا تو ایسے شخص سے پوچھئے کہ تو (توبہ کے معاملے میں ) ٹال مٹول کرنے میں کیوں مبتلاہے تو کس خوش فہمی کا شکار ہےتو توبہ کرنے کے لئے اج کی بجائے کل کا کیوں منتظر ہےکیا معلوم کہ تجھے کل کا دن نصیب ہی نہ ہواگر تم یہ گمان رکھتے ہو کہ اج کی بجائے کل توبہ اسان ہو گی تو اس خام خیالی کو اپنے دل سے نکال دے کیونکہ یہ محال ہے اور یہ غلط بات جتنی جلدی تیرے دل سے نکل جائے اتنا ہی (تیرے لئے) اچھا ہے کیونکہ جو مشکل اج تمہیں درپیش ہے وہی کل بھی ہو سکتی ہے اور اللہ تعالی نے تمام دن ایک جیسے بنائے ہیں ان میں کوئی دن خاص نہیں کیا جس میں شہوت کو ترک کرنا اسان ہو۔ ایسے شخص کی مثال یوں سمجھئے کہ جب اسے کہا جائے کہ فلاں درخت کو جڑوں سے اکھیڑ دو تو وہ کہے کہ یہ درخت بہت مضبوط ہے اور میں بہت کمزور ہوں اب تو اسے اکھیڑنا میرے بس کی بات نہیں البتہ ائندہ سال میں اسے اکھیڑ دوں گا۔ ذرا اس احمق سے پوچھئے کہ کیا اگلے سال وہ درخت اور مضبوط نہیں ہو چکا ہو گا اور تیری کمزوری مزید بڑھ نہ چکی ہو گی بس یہی صورت حال خواہشات کے درخت کی ہے جو روز بروز مضبوط سے مضبوط تر ہوتا جاتا ہے اس لئے کہ وہ تو خواہشات اور لذات کا محکوم بن چکا ہے جس کی وجہ سے وہ خواہشات کے احکام پر تسلسل سے عمل پیرا ہے اور ا س کا نتیجہ یہ ہو تا ہے کہ ان خواہشات کی غلامی کی بندش کی وجہ سے ان کے خلاف چلنا اس کے بس کا روگ نہیں رہتا لہذا اے انسان !جتنی جلدی تو خواہشات اور شہوات کے درخت کو اکھیڑ سکتا ہے اسے اکھیڑ دے کیونکہ اس میں تیرا ہی فائدہ ہے۔( کیمیاء سعادت رکن چہارم اصل اول در توبہ ۲ / ۷۷۳)