Surah Al Insan Ayat 29 (76:29)
The Man · Juz 29 · Madani
اِنَّ هٰذِهٖ تَذْكِرَةٌۚ-فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا 29
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariبیشک یہ ایک نصیحت ہے تو جو چاہے اپنے رب کی طرف راہ اختیار کرے ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبے شک یہ نصیحت ہے تو جو چاہے اپنے رب کی طرف راہ لے۔
Tafseer (Urdu)
{ان هذه تذكرة: بیشک یہ ایک نصیحت ہے۔} ارشاد فرمایا کہ بے شک یہ سورت مخلوق کے لئے نصیحت ہے تو جو چاہے دنیا میں اپنی ذات کے لئے اپنے رب عزوجل کی عبادت کر کے اور اس کے رسول کی پیروی کرکے اپنے رب عزوجل کی طرف راہ اختیار کرے۔( خازن الانسان تحت الایۃ: ۲۹ ۴ / ۳۴۲ مدارک الانسان تحت الایۃ: ۲۹ ص۱۳۰۹ ملتقطا) {و ما تشآءون الا ان یشآء الله: اورتم کچھ نہیں چاہتے مگر یہ کہ اللہ چاہے۔} ارشاد فرمایا کہ تم کچھ نہیں چاہتے مگر تب ہی کچھ ہوتا ہے جب کہ اللہ تعالی چاہے کیونکہ جو کچھ ہوتا ہے اسی کی مشیت سے ہوتاہے بیشک وہ اپنی مخلوق کے احوال جانتا ہے اور انہیں پیدا کرنے میں حکمت والا ہے۔( خازن الانسان تحت الایۃ: ۳۰ ۴ / ۳۴۲) ایت ’’و ما تشآءون الا ان یشآء الله‘‘ سے معلوم ہونے والے مسائل: اس ایت سے دو مسئلے معلوم ہوئے (1)… انسان پتھر کی طرح بے اختیار نہیں بلکہ اسے اختیاراور ارادہ ملا ہے ۔ (2)… انسان اپنے ارادے میں بالکل مستقل اور اللہ تعالی سے بے نیاز نہیں بلکہ اس کا ارادہ اللہ تعالی کے ارادے کے ماتحت ہے لہذا انسان مختار مطلق نہیں اسی عقیدے پر ایمان کا مدار ہے۔ {یدخل من یشآء فی رحمته: وہ اپنی رحمت میں جسے چاہتا ہے داخل فرماتا ہے۔} یعنی اللہ تعالی جسے چاہتا ہے اسے اپنے فضل و احسان سے ایمان عطا فرما کر اپنی جنت میں داخل فرماتا ہے اور کافروں کے لیے اس نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے اور وہ ظالم اس لئے ہیں کہ انہوں نے اللہ تعالی کی عبادت کرنے کی بجائے بتوں وغیرہ کی عبادت کر کے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے۔( خازن الانسان تحت الایۃ: ۳۱ ۴ / ۳۴۲ مدارک الانسان تحت الایۃ: ۳۱ ص۱۳۰۹ ملتقطا)