Surah An Naba Ayat 21 (78:21)
The Tidings · Juz 30 · Makki
اِنَّ جَهَنَّمَ كَانَتْ مِرْصَادًاﭪ 21
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariبیشک جہنم تاک میں ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبیشک جہنم تاک میں ہے۔
Tafseer (Urdu)
{ان جهنم كانت مرصادا: بیشک جہنم تاک میں ہے۔} اس کا ایک معنی یہ ہے کہ جہنم کافروں کی منتظر اور ان کی طلبگار ہے۔دوسرا معنی یہ ہے کہ جہنم کے فرشتے کفار کے انتظار میں ہیں ۔ تیسرا معنی یہ ہے کہ جہنم ایک گزرگاہ ہے اور کوئی بھی اس پرسے گزرے بغیر جنت تک نہیں پہنچ سکتا۔( خازن النبا تحت الایۃ: ۲۱ ۴ / ۳۴۷ تفسیرکبیر النبا تحت الایۃ: ۲۱ ۱۱ / ۱۴ ملتقطا) {للطاغین مابا: سرکشوں کیلئے ٹھکانا ہے۔} اس ایت اور ا س کے بعد والی3 ایات کا خلاصہ یہ ہے کہ جہنم کفار اور مشرکین کا ٹھکانہ ہے لہذا وہ اس میں داخل ہوں گے اوراس میں نہ ختم ہونے والی مدت تک یعنی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے رہیں گے اور جہنم میں ان کا حال یہ ہوگا کہ وہ اس میں کسی طرح کی ایسی ٹھنڈک محسوس نہ کریں گے جس سے انہیں راحت نصیب ہو اور جہنم کی گرمی سے سکون ملے اور نہ جہنم کے کھولتے ہوئے پانی اور جہنمیوں کی پیپ کے علاوہ انہیں کچھ پینے کو ملے گا۔( روح البیان النبا تحت الایۃ: ۲۲-۲۵ ۱۰ / ۳۰۲-۳۰۵ جلالین النبا تحت الایۃ: ۲۲-۲۵ ص ۴۸۷ ملتقطا) یاد رہے کہ جو مسلمان اپنے گناہوں کی سزا پانے جہنم میں جائیں گے انہیں ہمیشہ کے لئے جہنم میں نہیں رکھا جائے گا بلکہ انہیں مقرب بندوں اور دیگر حضرات کی شفاعت کے ذریعے یا محض فضل الہی سے یا جب ان کی سزا پوری ہوجائے گی توانہیں جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کر دیا جائے گا۔ {جزآء وفاقا: برابر بدلہ ہوگا۔} یعنی جیسے عمل ہوں گے و یسی جزا ملے گی اورچونکہ کفر سے بدترین کوئی جرم نہیں ہے اس لئے سب سے سخت عذاب بھی کفار کو ہو گا۔ (جلالین النبا تحت الایۃ: ۲۶ ص ۴۸۷ ملخصا)