Surah An Naba Ayat 36 (78:36)
The Tidings · Juz 30 · Makki
جَزَآءً مِّنْ رَّبِّكَ عَطَآءً حِسَابًا 36
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attari(یہ) بدلہ ہے تمہارے رب کی طرف سے نہایت کافی عطا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanصلہ تمہارے رب کی طرف سے نہایت کافی عطا ۔
Tafseer (Urdu)
{جزآء من ربك: (یہ) بدلہ ہے تمہارے رب کی طرف سے۔} اس ایت اور اس کے بعد والی دو ایات کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے اطاعت گزار بندو ں سے جو وعدہ فرمایا ہے یہ اس وعدے کے مطابق تمہارے اعمال کے بدلے کے طور پرتمہارے رب عزوجل کی طرف سے نہایت کافی عطا ہے اور تمہارا رب عزوجل وہ ہے جو آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا رب عزوجل ہے اوروہ نہایت رحم فرمانے والا ہے اور جس دن حضرت جبریل علیہ السلام اور سب فرشتے صفیں بنائے کھڑے ہوں گے تواس دن لوگ اللہ تعالی کے رعب و جلال اور خوف کی وجہ سے اس سے مصیبت دور کرنے اور عذاب اٹھا دینے کی بات کرنے کا اختیار نہ رکھیں گے البتہ جسے رحمن عزوجل نے کلام کرنے یا شفاعت کرنے کی اجازت دی ہو اور اس نے دنیا میں ٹھیک بات کہی ہواور اسی کے مطابق عمل کیا ہو تو وہ اللہ تعالی کی بارگاہ میں کلام کر سکے گا۔بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ ٹھیک بات سے کلمہ طیبہ لا الـہ الا اللہ مراد ہے۔( جلالین مع صاویالنباتحت الایۃ:۳۶-۳۸ ۶ / ۲۳۰۳-۲۳۰۴ خازن النبا تحت الایۃ: ۳۶-۳۸ ۴ / ۳۴۸ تفسیر قرطبی النبا تحت الایۃ: ۳۶-۳۸ ۱۰ / ۱۳۱-۱۳۳ الجزء التاسع عشر ملتقطا) {ذلك الیوم الحق: وہ سچا دن ہے۔} یعنی قیامت کا واقع ہونا برحق ہے اب جو چاہے نیک اعمال کر کے اپنے رب عزوجل کی طرف راہ بنالے تاکہ اس دن میں عذاب سے محفوظ رہ سکے۔( جلالین النبا تحت الایۃ: ۳۹ ص ۴۸۸)