Surah Al Anfal Ayat 1 (8:1)
The Spoils of War · Juz 9 · Madani
یَسْــٴَـلُوْنَكَ عَنِ الْاَنْفَالِؕ -قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰهِ وَ الرَّسُوْلِۚ-فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَصْلِحُوْا ذَاتَ بَیْنِكُمْ۪-وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗۤ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ 1
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاے محبوب! تم سے اموالِ غنیمت کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ تم فرماؤ، غنیمت کے مالوں کے مالک اللہ اور رسول ہیں تو اللہ سے ڈرتے رہو اور آ پس میں صلح صفائی رکھو اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو اگر تم مومن ہو۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاے محبوب تم سے غنیمتوں کو پوچھتے ہیں تم فرماؤ غنیمتوں کے مالک اللہ و رسول ہیں تو اللہ سے ڈرو اور اپنے آ پس میں میل رکھو اور اللہ و رسول کا حکم مانو اگر ایمان رکھتے ہو۔
Tafseer (Urdu)
{ یســٴـلونك عن الانفال:اے حبیب! تم سے اموال غنیمت کے بارے میں پوچھتے ہیں۔} انفال نفل کی جمع ہے اورا س سے مراد مال غنیمت ہے۔ (جمل الانفال تحت الایۃ: ۱ ۳ / ۱۶۴)اور نفل کوغنیمت اس لئے کہتے ہیں کہ یہ بھی محض اللہ تعالی کا فضل اور اس کی عطا ہے۔ (بیضاوی الانفال تحت الایۃ: ۱ ۳ / ۸۷) شان نزول: اس ایت کے شان نزول سے متعلق مختلف روایات ہیں ان میں سے دو روایات یہاں ذکر کی جاتی ہیں : (1)…حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں میں نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالی عنہ سے ایت انفال کے نزول کے بارے میں پوچھا تو اپ نے فرمایا کہ ’’یہ آیت ہم اہل بدر کے حق میں نازل ہوئی جب غنیمت کے معاملہ میں ہمارے درمیان اختلاف پیدا ہوا اور بدمزگی کی نوبت آگئی تو اللہ تعالی نے معاملہ ہمارے ہاتھ سے نکال کر اپنے رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے سپرد کر دیا اور آپ نے وہ مال مسلمانوں میں برابر تقسیم کردیا۔ (مسند امام احمد مسند الانصار حدیث عبادۃ بن الصامت رضی اللہ عنہ ۸ / ۴۱۰ الحدیث: ۲۲۸۱۱) (2)… حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ سرورکائنات صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے غزوہ بدر کے دن ارشاد فرمایا: ’’ جو تم میں سے یہ کام کر دکھائے اسے مال غنیمت میں سے یہ انعام ملے گا۔ چنانچہ نوجوان اگے بڑھ گئے اور عمر رسیدہ حضرات جھنڈوں کے پاس کھڑے رہے اور وہاں سے نہ ہٹے۔ جب اللہ تعالی نے کافروں پر فتح عطا فرمائی تو بوڑھوں نے فرمایا: ’’ہم تمہارے پشت پناہ تھے اگر تمہیں شکست ہو جاتی تو تم ہماری طرف اتے لہذا یہ نہیں کہ غنیمت تم لے جاو اور ہم خالی ہاتھ رہ جائیں۔ جوانوں نے اس بات سے انکار کیا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ہمارا یہ حق مقرر فرمایا ہے۔ اس پر یہ ایت نازل ہوئی۔ (ابو داود کتاب الجہاد باب فی النفل ۳ / ۱۰۲ الحدیث: ۲۷۳۷)