Surah Al Anfal Ayat 2 (8:2)
The Spoils of War · Juz 9 · Madani
اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ اِذَا تُلِیَتْ عَلَیْهِمْ اٰیٰتُهٗ زَادَتْهُمْ اِیْمَانًا وَّ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَﭕ 2
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariایمان والے وہی ہیں کہ جب اللہ کویاد کیا جائے توان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب ان پر اس کی آیات کی تلاوت کی جاتی ہے تو ان کے ایمان میں اضافہ ہوجاتا ہے اور وہ اپنے رب پر ہی بھروسہ کرتے ہیں۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanایمان والے وہی ہیں کہ جب اللہ یاد کیا جائے ان کے دل ڈر جائیں اور جب ان پر اس کی آیتیں پڑھی جائیں ان کا ایمان ترقی پائے اور اپنے رب ہی پر بھروسہ کریں۔
Tafseer (Urdu)
{انما المؤمنون:ایمان والے وہی ہیں۔} اس سے پہلی ایت میں اللہ تعالی نے ایمان کی شرط کے ساتھ اپنی اور اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی اطاعت کا حکم دیا کیونکہ کامل ایمان کامل اطاعت کو مستلزم ہے۔ جبکہ اس ایت میں اللہ تعالی نے کامل ایمان والوں کے تین اوصاف بیان فرمائے ہیں۔ (خازن الانفال تحت الایۃ: ۲ ۲ / ۱۷۵-۱۷۶) کامل ایمان والوں کے تین اوصاف: اس ایت میں اپنے ایمان میں سچے اور کامل لوگوں کا پہلا وصف یہ بیان ہوا کہ جب اللہ عزوجل کویاد کیا جائے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں۔ اللہ تعالی کاخوف دو طرح کا ہوتا ہے: (1) عذاب کے خوف سے گناہوں کو ترک کر دینا۔ (2)اللہ عزوجل کے جلال اس کی عظمت اور اس کی بے نیازی سے ڈرنا۔ پہلی قسم کا خوف عام مسلمانوں میں سے پرہیز گاروں کو ہوتا ہے اور دوسری قسم کا خوف انبیاء و مرسلین اولیاءے کاملین اور مقرب فرشتوں کو ہوتا ہے اور جس کااللہ تعالی سے جتنا زیادہ قرب ہوتاہے اسے اتنا ہی زیادہ خوف ہوتا ہے۔ (تفسیر کبیر الانفال تحت الایۃ: ۲ ۵ / ۴۵۰ ملتقطا) جیسا کہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنھا سے روایت ہے سرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ میں تم سب سے زیادہ اللہ عزوجل سے ڈرنے والا ہوں اور تم سب سے زیادہ اللہ عزوجل کی معرفت رکھنے والا ہوں (بخاری کتاب الایمان باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم: انا اعلمکم باللہ ۱ / ۱۸ الحدیث: ۲۰) خوف خدا سے متعلق اثار: حضرت حسن رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک مرتبہ درخت پر پرندے کو بیٹھے ہوئے دیکھا تو فرمایا: اے پرندے! تیرے لئے کتنی بھلائی ہے کہ تو پھل کھاتا اور درخت پر بیٹھتا ہے کاش! میں بھی ایک پھل ہوتا جسے پرندے کھا لیتے۔ (کتاب الزہد لابن مبارک باب تعظیم ذکر اللہ عزوجل ص۸۱ رقم: ۲۴۰) حضرت عبداللہ بن عامر بن ربیعہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ’’ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ کو دیکھا کہ اپ نے زمین سے ایک تنکا اٹھا کر فرمایا: کاش! میں ایک تنکا ہوتا۔ کاش! میں کچھ بھی نہ ہوتا۔ کاش! میں پیدا نہ ہوا ہوتا۔ کاش! میں بھولا بسرا ہوتا۔ (کتاب الزہد لابن مبارک باب تعظیم ذکر اللہ عزوجل ص۷۹ رقم: ۲۳۴) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے سرکار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس مومن بندے کی انکھ سے اللہ عزوجل کے خوف سے انسو نکلے خواہ وہ مچھر کے سر جتنا ہو پھر وہ انسو رخسار کے سامنے کے حصے کو مس کرے تو اللہ تعالی اس پر دوزخ کی اگ حرام کر دیتا ہے (ابن ماجہ کتاب الزہد باب الحزن والبکائ ۴ / ۴۶۷ الحدیث: ۴۱۹۷)۔ ([1]) دوسرا وصف یہ بیان ہوا کہ اللہ عزوجل کی ایات سن کر ان کے ایمان میں اضافہ ہو جاتا ہے ۔ یہاں ایمان میں زیادتی سے ایمان کی مقدار میں زیادتی مراد نہیں بلکہ اس سے مراد ایمان کی کیفیت میں زیادتی ہے۔ تیسرا وصف یہ بیان ہو اکہ وہ اپنے رب عزوجل پر ہی بھروسہ کرتے ہیں۔ یعنی وہ اپنے تمام کام اللہ عزوجل کے سپرد کر دیتے ہیں اس کے علاوہ کسی سے امید رکھتے ہیں اور نہ کسی سے ڈرتے ہیں۔ (خازن الانفال تحت الایۃ: ۲ ۲ / ۱۷۶) توکل کا حقیقی معنی اور توکل کی فضیلت: امام فخر الدین رازی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ’’توکل کا یہ معنی نہیں کہ انسان اپنے اپ کو اور اپنی کوششوں کو مہمل چھوڑ دے جیساکہ بعض جاہل کہتے ہیں بلکہ توکل یہ ہے کہ انسان ظاہری اسباب کو اختیار کرے لیکن دل سے ان اسباب پر بھروسہ نہ کرے بلکہ اللہ تعالی کی نصرت اس کی تائید اور اس کی حمایت پر بھروسہ کرے ۔ (تفسیر کبیر ال عمران تحت الایۃ: ۱۵۹ ۳ / ۴۱۰) اس کی تائید اس حدیث پاک سے بھی ہوتی ہے چنانچہ حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ’’ایک شخص نے عرض کی :یا رسول اللہ ! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلممیں اپنے اونٹ کو باندھ کر توکل کروں یا اسے کھلا چھوڑ کر توکل کروں ارشاد فرمایا ’’تم اسے باندھو پھر توکل کرو۔ (ترمذی کتاب صفۃ یوم القیامۃ ۶۰-باب ۴ / ۲۳۲ الحدیث: ۲۵۲۵) اور توکل کی فضیلت کے بارے میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’ میری امت میں سے ستر ہزار بغیر حساب جنت میں جائیں گے اور یہ وہ لوگ ہوں گے جو منتر جنتر نہیں کرتے فال کے لیے چڑیاں نہیں اڑاتے اور اپنے رب عزوجل پر بھروسہ کرتے ہیں۔( بخاری کتاب الرقاق باب ومن یتوکل علی اللہ فہو حسبہ ۴ / ۲۴۰ رقم۶۴۷۲) [1] ۔۔۔ دل میں اللہ تعالی کا خوف پیدا کرنے کی ترغیب پانے اور اس سے متعلق دیگر چیزوں کی معلومات حاصل کرنے کے لئے کتاب’’خوف خدا‘‘ (مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) کا مطالعہ مفید ہے۔