Surah Al Anfal Ayat 16 (8:16)
The Spoils of War · Juz 9 · Madani
وَ مَنْ یُّوَلِّهِمْ یَوْمَىٕذٍ دُبُرَهٗۤ اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ اَوْ مُتَحَیِّزًا اِلٰى فِئَةٍ فَقَدْ بَآءَ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ مَاْوٰىهُ جَهَنَّمُؕ-وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ 16
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور جو اس دن لڑائی میں ہنر مندی کا مظاہرہ کرنے یا اپنے لشکر سے ملنے کے علاوہ کسی اور صورت میں انہیں پیٹھ دکھائے گا تو وہ اللہ کے غضب کا مستحق ہوگا اور اس کا ٹھکاناجہنم ہے اور بہت بری لوٹنے کی جگہ ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور جو اس دن انہیں پیٹھ دے گا مگر لڑائی کا ہنر کرنے یا اپنی جماعت میں جاملنے کو تو وہ اللہ کے غضب میں پلٹا اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے اور کیا بری جگہ ہے پلٹنے کی۔
Tafseer (Urdu)
{و من یولهم یومىذ دبره:اور جو اس دن انہیں پیٹھ دکھائے گا۔} یعنی مسلمانوں میں سے جو جنگ میں کفار کے مقابلے سے بھاگا وہ غضب الہی میں گرفتار ہوا اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے البتہ دو صورتیں ایسی ہیں جن میں وہ پیٹھ دکھا کر بھاگنے والا نہیں ہے۔ (1)… کسی جنگی حکمت عملی کی وجہ سے پیچھے ہٹنا مثلا پیچھے ہٹ کر حملہ کرنا زیادہ موثر ہو یا خطرناک جگہ سے ہٹ کر محفوظ جگہ سے حملہ کرنے کا قصد ہو تو اس صورت میں وہ پیٹھ دکھا کر بھاگنے والا نہیں ہے۔ (2)… اپنی جماعت میں ملنے کے لئے پیچھے ہٹنا مثلا مسلمان فوجیوں کا کوئی فرد یا گروہ مرکزی جماعت سے بچھڑ گیا اور وہ اپنے بچاو کیلئے پسپا ہو کر مرکزی جماعت سے ملا تو یہ بھی بھاگنے والوں میں شمار نہ ہو گا۔ جنگ احد اور جنگ حنین میں پسپائی اختیار کرنے والے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کا حکم جنگ احد اور جنگ حنین میں جن صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کے قدم اکھڑ گئے تھے وہ اس ایت کی وعید میں داخل نہیں ہیں کیونکہ اللہ تعالی نے قران پاک میں جنگ احد میں پسپائی اختیار کرنے والے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کی عام معافی کا اعلان فرما دیا: ’’ان الذین تولوا منكم یوم التقى الجمعن-انما استزلهم الشیطن ببعض ما كسبوا-و لقد عفا الله عنهم‘‘ (ال عمران: ۱۵۵) ترجمہ کنزالعرفان: بیشک تم میں سے وہ لوگ جو اس دن بھاگ گئے جس دن دونوں فوجوں کا مقابلہ ہوا انہیں شیطان ہی نے ان کے بعض اعمال کی وجہ سے لغزش میں مبتلا کیا اور بیشک اللہ نے انہیں معاف فرما دیا ہے۔ یونہی جنگ حنین میں جن صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے ابتداء پسپائی اختیار کی ان کے مومن رہنے کی گواہی خود قران میں موجود ہے اللہ تعالی نے ان کے قدم جمائے اور ان پر اپنا سکینہ اتارا ارشاد باری تعالی ہے: ’’ثم انزل الله سكینته على رسوله و على المؤمنین و انزل جنودا لم تروها‘‘ (التوبہ : ۲۶) ترجمہ کنزالعرفان: پھراللہ نے اپنے رسول پر اور اہل ایمان پر اپنی تسکین نازل فرمائی اور اس نے (فرشتوں کے) ایسے لشکر اتارے جو تمہیں دکھائی نہیں دیتے تھے ۔ جو اس طرح کے واقعات کو لے کر صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کی شان میں گستاخی کرے اور ان پر زبان طعن دراز کرے وہ بڑا بدبخت ہے کہ ان کی معافی کا اعلان رب العالمین عزوجل خود فرماچکا ہے۔