Surah Al Anfal Ayat 17 (8:17)
The Spoils of War · Juz 9 · Madani
فَلَمْ تَقْتُلُوْهُمْ وَ لٰـكِنَّ اللّٰهَ قَتَلَهُمْ۪-وَ مَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَ لٰـكِنَّ اللّٰهَ رَمٰىۚ-وَ لِیُبْلِیَ الْمُؤْمِنِیْنَ مِنْهُ بَلَآءً حَسَنًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ 17
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attari: تو تم نے انہیں قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے انہیں قتل کیا اور اے حبیب! جب آپ نے خاک پھینکی تو آپ نے نہ پھینکی تھی بلکہ اللہ نے پھینکی تھی اور اس لئے تا کہ مسلمانوں کواپنی طرف سے اچھا انعام عطا فرمائے۔ بیشک اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتو تم نے انہیں قتل نہ کیا بلکہ اللہ نے انہیں قتل کیا اور اے محبوب وہ خاک جو تم نے پھینکی تم نے نہ پھینکی تھی بلکہ اللہ نے پھینکی اور اس لیے کہ مسلمانوں کو اس سے اچھا انعام عطا فرمائے بیشک اللہ سنتا جانتا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{فلم تقتلوهم:تو تم نے انہیں قتل نہیں کیا۔} شان نزول: جب مسلمان جنگ بدر سے واپس ہوئے تو ان میں سے ایک کہتا تھا کہ میں نے فلاں کو قتل کیا دوسرا کہتا تھا میں نے فلاں کو قتل کیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا گیا کہ اس قتل کو تم اپنے زور بازو اور طاقت و قوت کی طرف منسوب نہ کرو کہ یہ درحقیقت اللہ عزوجل کی امداد اور اس کی تقویت اور تائید ہے۔(تفسیر بغوی الاعراف تحت الایۃ: ۱۷ ۲ / ۱۹۹) ہر اچھے کام کی نسبت اللہ تعالی کی طرف کی جائے: اس ایت سے معلوم ہوا کہ اچھے اور نیک کام کی نسبت اللہ تعالی کی طرف کرنی چاہئے اور جب انسان کوئی اچھا اور نیک کام کرے تو اس پر فخر نہیں کرنا چاہئے کیونکہ نیک کام بندہ خود نہیں کرتا بلکہ جو بھی نیک کام کرتا ہے اس میں اللہ تعالی کی توفیق شامل حال ہوتو ہی کرتا ہے۔ {و ما رمیت اذ رمیت و لكن الله رمى:اور اے محبوب! جب اپ نے خاک پھینکی تو اپ نے نہ پھینکی تھی بلکہ اللہ نے پھینکی تھی۔} شان نزول: اس ایت کے شان نزول سے متعلق جمہور مفسرین کا مختار قول یہ ہے کہ جب کفار اور مسلمانوں کی فوجیں ایک دوسرے کے سامنے ہوئیں تورسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ایک مٹھی خاک کافروں کے چہرے پر ماری اور فرمایا ’’شاہت الوجوہ‘‘ یعنی ان لوگوں کے چہرے بگڑ جائیں۔ وہ خاک تمام کافروں کی انکھوں میں پڑی اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم بڑھ کر انہیں قتل اور گرفتار کرنے لگے۔ کفار قریش کی شکست کا اصل سبب خاک کی وہ مٹھی تھی جو تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے پھینکی تھی۔ اس موقع پراللہ تعالی نے یہ ایت نازل فرمائی: ’’ و ما رمیت اذ رمیت و لكن الله رمى‘‘ ترجمہ کنزالعرفان: اے حبیب!جب اپ نے خاک پھینکی تو وہ اپ نے نہ پھینکی تھی بلکہ اللہ نے پھینکی تھی۔( تفسیر طبری الانفال تحت الایۃ: ۱۷ ۶ / ۲۰۳ قرطبی الانفال تحت الایۃ: ۱۷ ۴ / ۲۷۶ الجزء السابع) اعلی حضرت رحمۃاللہ تعالی علیہ اس واقعے کی منظر کشی کرتے ہوئے کیا خوب فرماتے ہیں : میں ترے ہاتھوں کے صدقے کیسی کنکریاں تھیں وہ جن سے اتنے کافروں کا دفعتا منھ پھر گیا