Surah Al Anfal Ayat 24 (8:24)
The Spoils of War · Juz 9 · Madani
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا یُحْیِیْكُمْۚ-وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَحُوْلُ بَیْنَ الْمَرْءِ وَ قَلْبِهٖ وَ اَنَّهٗۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ 24
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کی بارگاہ میں حاضر ہوجاؤ جب وہ تمہیں اس چیز کے لئے بلائیں جو تمہیں زندگی دیتی ہے اور جان لو کہ اللہ کا حکم آدمی اور اس کے دل کے درمیان حائل ہوجا تا ہے اور یہ کہ اسی کی طرف تمہیں اٹھایا جائے گا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاے ایمان والو اللہ ورسول کے بلانے پر حاضر ہو جب رسول تمہیں اس چیز کے لیے بلائیں جو تمہیں زندگی بخشے گی اور جان لو کہ اللہ کا حکم آدمی اور اس کے دلی ارادوں میں حائل ہوجا تا ہے اور یہ کہ تمہیں اسی کی طرف اٹھنا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{استجیبوا لله و للرسول اذا دعاكم:اللہ اور اس کے رسول کے بلانے پر حاضر ہو۔}اس ایت میں واحد کا صیغہ ’’دعا‘‘ ا س لئے ذکر کیا گیا کہ حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا بلانا اللہ عزوجل ہی کا بلانا ہے۔( خازن الانفال تحت الایۃ: ۲۴ ۲ / ۱۸۸) رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم جب بھی بلائیں تو ان کی بارگاہ میں حاضر ہونا ضروری ہے: اس ایت سے ثابت ہو اکہ تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم جب بھی کسی کو بلائیں تو اس پر لازم ہے کہ وہ اپ کی بارگاہ میں حا ضر ہو جائے چاہے وہ کسی بھی کام میں مصروف ہو۔ بخاری شریف میں ہےحضرت ابوسعید بن معلی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں مسجد نبوی میں نماز پڑھ رہا تھا کہ مجھے رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے بلایا لیکن میں اپ کے بلانے پر حاضر نہ ہوا ۔ (نماز سے فارغ ہونے کے بعد) میں نے حاضر خدمت ہو کر عرض کی: یا رسول اللہ! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم میں نماز پڑھ رہا تھا ۔ سرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا اللہ تعالی نے یہ نہیں فرمایا ہے کہ ’’استجیبوا لله و للرسول اذا دعاكم‘‘ ترجمہ کنزالعرفان:اللہ اور رسول کے بلانے پر حاضر ہو جایا کروجب وہ تمہیں بلائیں۔ (بخاری باب ما جاء فی فاتحۃ الکتاب ۳ / ۱۶۳ الحدیث: ۴۴۷۴) ایسا ہی واقعہ ایک اور حدیث میں ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف تشریف لائے اور انہیں اواز دی ’’اے ابی! حضرت ابی رضی اللہ تعالی عنہ نماز پڑھ رہے تھے انہوں نے اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی طرف دیکھا لیکن کوئی جواب نہ دیا پھر مختصر نماز پڑھ کر نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کی ’’السلام علیک یا رسول اللہ‘‘ رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا: ’’وعلیک السلام‘‘ اے ابی! جب میں نے تمہیں پکارا تو جواب دینے میں کونسی چیز رکاوٹ بنی۔ عرض کی:یا رسول اللہ! میں نماز پڑھ رہا تھا حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’کیا تم نے قرآن پاک میں یہ نہیں پایا کہ ’’استجیبوا لله و للرسول اذا دعاكم لما یحییكم‘‘ ترجمہ کنزالعرفان:اللہ اور اس کے رسول کی بارگاہ میں حاضر ہوجاو جب وہ تمہیں اس چیز کے لئے بلائیں جو تمہیں زندگی دیتی ہے۔ عرض کی: ہاں یا رسول اللہ ! ان شاء اللہ عزوجل ائندہ ایسا نہ ہو گا۔ (ترمذی کتاب فضائل القران باب ما جاء فی فضل فاتحۃ الکتاب ۴ / ۴۰۰ الحدیث: ۲۸۸۴) {لما یحییكم:اس چیز کے لئے جو تمہیں زندگی دیتی ہے۔} زندگی دینے والی چیز کے بارے میں ایک قول یہ ہے کہ اس سے ا یمان مراد ہے کیونکہ کافر مردہ ہوتا ہے ا یمان سے اس کوزندگی حاصل ہوتی ہے۔حضرت قتادہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ وہ چیز قرآن ہے کیونکہ اس سے دلوں کی زندگی ہے اور اس میں نجات ہے اور دونوں جہان کی حفاظت ہے۔ حضرت محمد بن اسحاق رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں کہ وہ چیز جہاد ہے کیونکہ اس کی بدولت اللہ تعالی ذلت کے بعد عزت عطا فرماتا ہے۔بعض مفسرین نے فرمایا کہ وہ چیز شہادت ہے کیونکہ شہداء اپنے رب عزوجل کے پاس زندہ ہیں اور انہیں رزق دیا جاتا ہے۔(خازن الانفال تحت الایۃ: ۲۴ ۲ / ۱۸۸)