Surah Al Anfal Ayat 25 (8:25)
The Spoils of War · Juz 9 · Madani
وَ اتَّقُوْا فِتْنَةً لَّا تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْكُمْ خَآصَّةًۚ-وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ 25
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور اس فتنے سے ڈرتے رہو جو ہرگز تم میں خاص ظالموں کو ہی نہیں پہنچے گا اور جان لو کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اس فتنہ سے ڈرتے رہو جو ہرگز تم میں خاص ظالموں ہی کو نہ پہنچے گا اور جان لو کہ اللہ کا عذاب سخت ہے۔
Tafseer (Urdu)
{و اتقوا فتنة:اور اس فتنے سے ڈرتے رہو۔} اس سے پہلی ایت میں اللہ تعالی نے انسانوں کو اس بات سے ڈرایا تھا کہ بنو ادم اور ان کے دلوں کے درمیان اللہ تعالی حائل ہے اور اس ایت میں اللہ عزوجل نے مسلمانوں کو فتنوں ازمائشوں اور عذاب سے ڈرایا ہے کہ اگر ظالموں پر عذاب نازل ہوا تو وہ صرف ظالموں تک ہی محدود نہ رہے گا بلکہ نیک و بد سب لوگوں پر یہ عذاب نازل ہو گا۔حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں کہ اس ایت میں اللہ تعالی نے مومنین کو حکم فرمایا ہے کہ وہ اپنی طاقت و قدرت کے مطابق برائیوں کو روکیں اور گناہ کرنے والوں کو گناہ سے منع کریں اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو عذاب ان سب کو عام ہوگا اورخطا کار اور غیر خطا کارسب کو پہنچے گا۔ (تفسیر کبیر الانفال تحت الایۃ: ۲۵ ۵ / ۴۷۳ خازن الانفال تحت الایۃ: ۲۵ ۲ / ۱۸۹ ملتقطا) قدرت کے باوجودبرائی سے منع کرنا چھوڑ دینا عذاب الہی انے کا سبب ہے: اس ایت سے معلوم ہو اکہ جو قوم قدرت کے باوجودبرائیوں سے منع کرنا چھوڑ دیتی ہے اور لوگوں کو گناہوں سے نہیں روکتی تووہ اپنے اس ترک فرض کی شامت میں مبتلا ئے عذاب ہوتی ہے۔ کثیر احادیث میں بھی یہ چیز بیان کی گئی ہے ان میں سے 3 احادیث درج ذیل ہیں : (1)… سرکار عالی وقار مدینے کے تاجدار صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ اللہ تعالی مخصوص لوگوں کے عمل کی وجہ سے عذاب عام نہیں کرتا جب تک کہ عام طور پر لوگ ایسا نہ کریں کہ ممنوعات کو اپنے درمیان ہوتا دیکھتے رہیں اور اس کے روکنے اور منع کرنے پر قادر ہونے کے باوجود اس سے نہ روکیں نہ منع کریں۔جب ایسا ہوتا ہے تو اللہ تعالی عذاب میں عام و خاص سب کو مبتلا کردیتا ہے۔ (شرح السنہ کتاب الرقاق باب الامر بالمعروف والنہی عن المنکر ۷ / ۳۵۸ الحدیث: ۴۰۵۰) (2)…حضرت جریر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں میں نے سرور کائنات صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ’’ کسی قوم میں جو شخص گناہوں میں سرگرم ہواور وہ لوگ قدرت کے باوجود اس کو نہ روکیں تواللہ تعالی مرنے سے پہلے انہیں عذاب میں مبتلا کر دیتا ہے۔ (ابو داود اول کتاب الملاحم باب الامر والنہی ۴ / ۱۶۴ الحدیث: ۴۳۳۹) (3)… حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ خدا کی قسم! تم ضرور نیکی کی دعوت دیتے رہنا اور برائی سے منع کرتے رہنا اور تم ضرور ظلم کرنے والے کے ہاتھوں کو پکڑ لینا اورا سے ضرور حق پر عمل کے لئے مجبور کرنا ورنہ اللہ تعالی تمہارے دل بھی ایک جیسے کر دے گا پھر تم پر بھی اسی طرح لعنت کرے گا جس طرح بنی اسرائیل پر لعنت کی گئی۔ (ابو داود اول کتاب الملاحم باب الامر والنہی ۴ / ۱۶۳ الحدیث: ۴۳۳۶-۴۳۳۷) اللہ تعالی ہمیں ایک دوسرے کو نیکی کی دعوت دینے اور برائی سے منع کرنے کی توفیق عطا فرمائےامین۔([1]) [1] ۔۔۔۔ نیکی کی دعوت دینے اور برائی سے منع کرنے کے بارے میں اہم معلومات حاصل کرنے کے لئے امیر اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ کی کتاب’’نیکی کی دعوت‘‘(مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) کا مطالعہ فرمائیں۔