Surah Al Anfal Ayat 27 (8:27)
The Spoils of War · Juz 9 · Madani
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ 27
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاے ایمان والو! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاے ایمان والو اللہ و رسول سے دغا نہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔
Tafseer (Urdu)
{لا تخونوا الله و الرسول:اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو۔} فرائض چھوڑ دینا اللہ تعالی سے خیانت کرنا ہے اور سنت کو ترک کرنا رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے خیانت کرنا ہے۔ (خازن الانفال تحت الایۃ: ۲۷ ۲ / ۱۹۰)شان نزول: یہ آیت حضرت ابولبابہ انصاری رضی اللہ تعالی عنہ کے حق میں نازل ہوئی ۔اس کاواقعہ یہ ہے کہ سرکاردو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے بنو قریظہ کے یہودیوں کا دو ہفتے سے زیادہ عرصے تک محاصرہ فرمایا وہ اس محاصرہ سے تنگ آگئے اور ان کے دل خائف ہوگئے تو ان سے ان کے سردار کعب بن اسد نے یہ کہا کہ اب تین صورتیں ہیں ایک یہ کہ اس شخص یعنی نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی تصدیق کرو اور ان کی بیعت کرلو کیونکہ خدا کی قسم! یہ ظاہر ہوچکا ہے کہ وہ نبی مرسل ہیں اور یہ وہی رسول ہیں جن کا ذکر تمہاری کتاب میں ہے ان پر ا یمان لے آئے تو جان مال اہل و اولاد سب محفوظ رہیں گے ۔ اس بات کو قوم نے نہ مانا تو کعب نے دوسری صورت پیش کی اور کہا کہ تم اگر اسے نہیں مانتے تو آو پہلے ہم اپنے بیوی بچوں کو قتل کردیں پھر تلواریں کھینچ کر محمد مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اور ان کے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کے مقابلے میں آجائیں تاکہ اگر ہم اس مقابلے میں ہلاک بھی ہوجائیں تو ہمارے ساتھ اپنے اہل خانہ اور اولاد کا غم تو نہ رہے گا۔ اس پر قوم نے کہا کہ بیوی بچوں کے بعد جینا ہی کس کام کا کعب نے کہا :یہ بھی منظور نہیں ہے تو حضوراکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے صلح کی درخواست کرو شاید اس میں کوئی بہتری کی صورت نکلے۔ انہوں نے تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے صلح کی درخواست کی لیکن حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اس کے سوا اور کوئی بات منظور نہ فرمائی کہ اپنے حق میں حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالی عنہ کے فیصلہ کو منظور کریں۔ اس پر انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس حضرت ابولبابہ رضی اللہ تعالی عنہ کو بھیج دیجئے کیونکہ حضرت ابولبابہ رضی اللہ تعالی عنہ سے ان کے تعلقات تھے اور حضرت ابولبابہ رضی اللہ تعالی عنہ کا مال اور ان کی اولاد اور ان کے عیال سب بنو قریظہ کے پاس تھے۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے حضرت ابولبابہ رضی اللہ تعالی عنہ کو بھیج دیا بنو قریظہ نے ان سے رائے دریافت کی کہ کیا ہم حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالی عنہ کا فیصلہ منظور کرلیں کہ جو کچھ وہ ہمارے حق میں فیصلہ دیں وہ ہمیں قبول ہو۔ حضرت ابولبابہ رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی گردن پر ہاتھ پھیر کر اشارہ کیا کہ یہ تو گلے کٹوانے کی بات ہے۔ حضرت ابولبابہ رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ میرے قدم اپنی جگہ سے ہٹنے نہ پائے تھے کہ میرے دل میں یہ بات جم گئی کہ مجھ سے اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی خیانت واقع ہوئی یہ سوچ کر وہ تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی خدمت میں تو نہ آئے سیدھے مسجد شریف پہنچے اور مسجد شریف کے ایک ستون سے اپنے آپ کو بندھوا لیا اور اللہ عزوجل کی قسم کھائی کہ نہ کچھ کھائیں گے نہ پئیں گے یہاں تک کہ مرجائیں یا اللہ تعالی ان کی توبہ قبول کرے۔ وقتا فوقتا ان کی زوجہ آکر انہیں نمازوں کے لئے اور طبعی حاجتوں کے لئے کھول دیا کرتی تھیں اور پھر باندھ دیئے جاتے تھے۔ حضور انور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو جب یہ خبر پہنچی تو فرمایا کہ ابولبابہ میرے پاس آتے تو میں ان کے لئے مغفرت کی دعا کرتا لیکن جب انہوں نے یہ کیا ہے تو میں انہیں نہ کھولوں گا جب تک اللہ عزوجل ان کی توبہ قبول نہ کرے ۔وہ سات روز بندھے رہے اورنہ کچھ کھایا نہ پیا یہاں تک کہ بے ہوش ہو کر گر گئے۔ پھر اللہ تعالی نے ان کی توبہ قبول کی صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے انہیں توبہ قبول ہونے کی بشارت دی۔ توانہوں نے کہا : خدا کی قسم ! جب تک رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم مجھے خود نہ کھولیں تب تک میں نہ کھولوں گا۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے انہیں اپنے دست مبارک سے کھول دیا۔ حضرت ابولبابہ رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کی: میری توبہ اس وقت پوری ہوگی جب میں اپنی قوم کی بستی چھوڑ دوں جس میں مجھ سے یہ خطا سرزد ہوئی اور میں اپنا پورا مال اپنی ملک سے نکال دوں۔ سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا :تہائی مال کا صدقہ کرنا کافی ہے ۔ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی۔ (تفسیر بغوی الاعراف تحت الایۃ: ۲۷ ۲ / ۲۰۳-۲۰۴ جمل تحت الایۃ: ۲۷ ۳ / ۱۸۵-۱۸۶ ملتقطا) اس سے معلوم ہوا کہ اپنی قوم کے راز دوسری قوم تک پہنچا نا سخت جرم ہے۔