Surah Al Anfal Ayat 34 (8:34)
The Spoils of War · Juz 9 · Madani
وَ مَا لَهُمْ اَلَّا یُعَذِّبَهُمُ اللّٰهُ وَ هُمْ یَصُدُّوْنَ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ مَا كَانُوْۤا اَوْلِیَآءَهٗؕ-اِنْ اَوْلِیَآؤُهٗۤ اِلَّا الْمُتَّقُوْنَ وَ لٰـكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ 34
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور انہیں کیا ہے کہ اللہ انہیں عذاب نہ دے حالانکہ یہ مسجد ِحرام سے روک رہے ہیں اور یہ اِس کے اہل ہی نہیں ،اس کے اہل تو پرہیزگار ہی ہیں مگر ان میں اکثر جانتے نہیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور انہیں کیا ہے کہ اللہ انہیں عذاب نہ کرے وہ تو مسجدِحرام سے روک رہے ہیں اور وہ اس کے اہل نہیں اس کے اولیاء تو پرہیزگار ہی ہیں مگر ان میں اکثر کو علم نہیں۔
Tafseer (Urdu)
{و ما لهم الا یعذبهم الله:اور انہیں کیا ہے کہ اللہ انہیں عذاب نہ دے۔} اس سے پہلی ایت میں اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا کہ جب تک میرا حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ان میں تشریف فرما ہے اللہ تعالی انہیں عذاب نہ دے گا اور اس ایت میں فرمایا کہ انہیں عذاب دے گا۔ تو اس ایت کا معنی یہ ہوا جب رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ان کے بیچ سے چلے جائیں گے تو اللہ تعالی انہیں عذاب دے گا۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ اس ایت میں عذاب سے مراد (قتل اور قید ہونے کا)وہ عذاب ہے جو بدر کے دن انہیں پہنچا۔ (خازن الانفال تحت الایۃ: ۳۴ ۲ / ۱۹۴) ایک قول یہ ہے کہ ا س سے مراد وہ عذاب ہے جو فتح مکہ کے دن انہیں پہنچا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں اس سے اخرت کا عذاب مراد ہے اور جس عذاب کی ان سے نفی کی گئی ہے اس سے دنیاوی عذاب مراد ہے۔ ان کفار کو عذاب دئیے جانے کا سبب یہ ہے کہ یہ مسجد حرام سے روک رہے ہیں اور مومنین کو طواف کعبہ کے لئے نہیں آنے دیتے جیسا کہ واقعہ حدیبیہ کے سال رسالت ماب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اور آپ کےاصحاب رضی اللہ تعالی عنہم کو روکا۔ (تفسیر کبیر الانفال تحت الایۃ: ۳۴ ۵ / ۴۸۰) {و ما كانوا اولیآءه:اور یہ اس کے اہل ہی نہیں۔} کفار یہ دعوی کرتے تھے کہ ہم خانہ کعبہ اور حرم شریف کے متولی ہیں تو ہم جسے چاہیں اس میں داخل ہونے دیں اور جسے چاہیں روک دیں۔ اللہ تعالی نے ان کے رد میں ارشاد فرمایا کہ یہ مسجد حرام کے اہل نہیں اور کعبہ کے امو ر میں تصرف و انتظام کا کوئی اختیار نہیں رکھتے کیونکہ یہ مشرک ہیں مسجد حرام کا متولی ہونے کے اہل تو پرہیزگار ہی ہیں۔