Surah Al Anfal Ayat 36 (8:36)
The Spoils of War · Juz 9 · Madani
اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ لِیَصُدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِؕ-فَسَیُنْفِقُوْنَهَا ثُمَّ تَكُوْنُ عَلَیْهِمْ حَسْرَةً ثُمَّ یُغْلَبُوْنَ۬ؕ-وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى جَهَنَّمَ یُحْشَرُوْنَ 36
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariبیشک کافر اپنے مال اس لئے خرچ کرتے ہیں کہ اللہ کی راہ سے روکیں تو اب مال خرچ کریں گے پھر وہی مال ان پر حسرت و ندامت ہو جائیں گے پھر یہ مغلوب کردیے جائیں گے اور کافروں کو جہنم کی طرف چلایا جائے گا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبیشک کافر اپنے مال خرچ کرتے ہیں کہ اللہ کی راہ سے روکیں تو اب انہیں خرچ کریں گے پھر وہ ان پر پچھتاوا ہوں گے پھر مغلوب کردیے جائیں گے اور کافروں کا حشر جہنم کی طرف ہوگا ۔
Tafseer (Urdu)
{ان الذین كفروا ینفقون اموالهم:بیشک کافر اپنے مال خرچ کرتے ہیں۔} اس ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ کفار اپنا مال مشرکین کو اس لئے دیتے ہیں تاکہ وہ اس مال کے ذریعے قوت حاصل کر کے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اور مسلمانوں کے خلاف جنگ کریں۔اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا کہ ان کا یہ مال خرچ کرنا عنقریب ان کے لئے ندامت کا سبب ہو گا کیونکہ ان کے اموال تو خرچ ہو جائیں گے لیکن ان کی ارزو پوری نہ ہوگی ۔اللہ عزوجل کے نور کو بجھا دینا اور کفر کے کلمے کو اللہ عزوجل کے کلمے پر بلند کرنا ان کی خواہش ہے لیکن اللہ عزوجل اپنے کلمہ کو بلند اور کفر کے کلمے کو پست کرتا ہے پھر مسلمانوں کو غلبہ عطا فرماتا ہے اور اخرت میں اللہ تعالی کافروں کو جہنم میں جمع فرمائے گا اور انہیں عذاب دے گا۔( تفسیر طبری الانفال تحت الایۃ: ۳۶ ۶ / ۲۴۱) شان نزول: یہ آیت کفار قریش کے ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے جنگ بدر کے موقع پر کفار کے لشکر کا کھانا اپنے ذمہ لیا تھا یہ کل بارہ اشخاص تھے جن میں سے ہر شخص لشکر کو روزانہ دس اونٹ ذبح کر کے کھلاتا تھا۔ ان بارہ افراد میں سے دو اشخاص حضرت عباس بن عبد المطلب اور حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ تعالی عنہما بعد میں ایمان لے ائے تھے۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ ایت ابو سفیان کے بارے میں نازل ہوئی ابو سفیان نے جنگ احد کے موقع پر دو ہزار کفار کو کرایہ پرجنگ کے لئے تیار کیا اور ان پر چالیس اوقیہ سونا خرچ کیا۔ اور ایک قول یہ ہے کہ جنگ بدر کی شکست کے بعد مقتولین کے اہل خانہ نے ابو سفیان کے تجارتی قافلے میں شریک تاجروں کو اپنا مال مسلمانوں کے خلاف جنگ کرنے میں خرچ کرنے کی ترغیب دی اور تمام تاجر کفار اس بات پر راضی ہو گئے ان کے بارے میں یہ ایت نازل ہوئی۔ (خازن الانفال تحت الایۃ: ۳۶ ۲ / ۱۹۵)