Surah Al Anfal Ayat 45 (8:45)
The Spoils of War · Juz 10 · Madani
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا لَقِیْتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوْا وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ 45
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاے ایمان والو! جب کسی فوج سے تمہارا مقابلہ ہو توثابت قدم رہو اور اللہ کو کثرت سے یادکرو تاکہ فلاح پاؤ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاے ایمان والوجب کسی فوج سے تمہارا مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو اور اللہ کی یاد بہت کرو کہ تم مراد کو پہنچو۔
Tafseer (Urdu)
{اذا لقیتم فئة فاثبتوا:جب کسی فوج سے تمہارا مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو۔} اس سے پہلی ایات میں اللہ تعالی نے ان نعمتوں کو بیان فرمایا جو ا س نے جنگ بدر میں اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اور ان کے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کو عطا فرمائی تھیں اور اس ایت میں اللہ تعالی نے مسلمانوں کو جنگ کے دواداب تعلیم فرمائے ہیں۔ پہلا ادب: جنگ میں ثابت قدم رہنا۔ ابتداء مسلمانوں کو جنگ یاکسی بھی ازمائش کی تمنا نہیں کرنی چاہئے لیکن جب ان پر جنگ مسلط ہو جائے تو اب ان پر لازم ہے کہ ثابت قدمی کا مظاہرہ کریں اور بزدلی نہ دکھائیں۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم دشمنوں سے مقابلے کی تمنا نہ کرو اور اللہ تعالی سے عافیت طلب کرو اور جب دشمنوں سے مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو اور اللہ عزوجل کو یاد کرو۔ (مصنف عبد الرزاق کتاب الجہاد باب کیف یصنع بالذی یغل ۵ / ۱۷۰ الحدیث: ۹۵۸۱) اور جنگ میں ثابت قدم رہنے کی فضیلت کے بارے میں حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص نے دشمن کے مقابلے میں صبر کیا یہاں تک کہ وہ شہید کر دیا گیا یا اس نے دشمنوں کو قتل کر دیا تو وہ فتنہ قبر میں مبتلا نہ ہو گا۔ (معجم الاوسط باب المیم من اسمہ موسی ۶ / ۱۲۹ الحدیث: ۸۲۴۳) دوسرا ادب: لڑائی کے دوران کثرت سے اللہ تعالی کا ذکر کرنا۔ دوران جنگ دل میں اللہ تعالی کی یاد اور زبان پہ اللہ عزوجل کا ذکر ہونا چاہئے ۔ حضرت ابو مجلز رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ’’ جب نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم دشمن سے مقابلہ کرتے تو یوں دعا مانگتے ’’اے اللہ! تومیری طاقت اور مددگار ہے میں تیری مدد سے پھرتا ہوں اور تیری مدد سے حملہ کرتا اور تیری مدد سے قتال کرتا ہوں۔ (مصنف عبد الرزاق کتاب الجہاد باب کیف یصنع بالذی یغل ۵ / ۱۶۹ الحدیث: ۹۵۸۰) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا’’ اللہ تعالی نے اپنے نیک بندوں کو انتہائی شدید حالت میں بھی ذکر کرنے کا حکم دیا ہے ۔ اس میں یہ تنبیہ ہے کہ ہر حال میں انسان کا دل اور اس کی زبان اللہ تعالی کے ذکر سے تر رہے۔ اگر ایک شخص مغرب سے مشرق تک اپنے اموال کی سخاوت کرے اور دوسرا شخص مشرق سے مغرب تک تلوار سے جہاد کرتا جائے تب بھی اللہ عزوجل کا ذکر کرنے والے کا درجہ اور اجر ان سے زیادہ ہو گا۔ (تفسیر کبیر الانفال تحت الایۃ: ۴۵ ۵ / ۴۸۹) یاد رہے کہ دوران جنگ زیادہ تر ذکر زبان سے ہوگا کہ دل عام طور پر سامنے والے سے مقابلے میں مشغول ہوتا ہے۔