Surah Al Anfal Ayat 49 (8:49)
The Spoils of War · Juz 10 · Madani
اِذْ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ غَرَّ هٰۤؤُلَآءِ دِیْنُهُمْؕ-وَ مَنْ یَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ 49
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariجب منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے کہنے لگے کہ ان مسلمانوں کو ان کے دین نے دھوکے میں ڈالا ہوا ہے اور جو اللہ پر توکل کرے تو بیشک اللہ غالب حکمت والا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanجب کہتے تھے منافق اور وہ جن کے دلوں میں آزار ہے کہ یہ مسلمان اپنے دین پر مغرور ہیں اور جو اللہ پر بھروسہ کرے تو بیشک اللہ غالب حکمت والا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{اذ یقول المنفقون:جب منافق کہنے لگے۔} منافقین سے مراد اوس اور خزرج قبیلے کے چند افراد ہیں اور جن کے دلوں میں بیماری ہے سے مراد مکہ مکرمہ کے وہ لوگ ہیں جنہوں نے کلمہ اسلام تو پڑھ لیا تھا مگر ابھی تک ان کے دلوں میں شک وتردد باقی تھا۔ جب کفار قریش سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے جنگ کے لئے نکلے تو یہ بھی ان کے ساتھ بدر میں پہنچے۔ بدر میں جب انہوں نے مسلمانوں کی تعداد تھوڑی دیکھی تو ان کا شک مزید بڑھا اور وہ مرتد ہوگئے اور یہ کہنے لگے کہ مسلمان اتنی کم تعداد کے باوجود اپنے سے تین گنا بڑے لشکر سے جنگ کرنے لگے ہیں انہیں ان کے دین اسلام نے دھوکے میں ڈالا ہوا ہے اور اخرت میں ثواب کی امید انہیں اپنی جانیں قربان کرنے پر ابھار رہی ہے۔ یہ تمام لوگ بدر میں مارے گئے تھے۔( تفسیرکبیر الانفال تحت الایۃ: ۴۹ ۵ / ۴۹۳ خازن الانفال تحت الایۃ: ۴۹ ۲ / ۲۰۰ ملتقطا) {و من یتوكل على الله:اور جو اللہ پر توکل کرے۔} ارشاد فرمایا کہ جو اللہ عزوجل پر توکل کرے اور اپنا کام اس کے سپرد کردے اور اس کے فضل و احسان پر مطمئن ہو تو بیشک اللہ تعالی اس کا حافظ و ناصر ہے کیونکہ اللہ تعالی غالب ہے اس پر کوئی غالب نہیں اسکتا اور اللہ عزوجل حکمت والا ہےوہ اپنے دشمنوں کو عذاب میں مبتلا کرتا اور اپنے اولیاء کو رحمت و ثواب عطا فرماتا ہے۔ (خازن الانفال تحت الایۃ: ۴۹ ۲ / ۲۰۰) صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کے توکل کی تعریف : اس ایت میں اللہ تعالی نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کی تعریف فرمائی ہے کہ انہوں نے اپنے تمام معاملات اللہ تعالی کے سپرد کر دئیے اور اس کی قضا پر راضی ہو گئے تا کہ دشمنوں کے مقابلے میں اللہ تعالی ان کی حمایت فرمائے اور اس میں دیگر مسلمانوں کے لئے بھی یہ تعلیم ہے کہ وہ بھی اپنے سب معاملات اللہ تعالی کے سپرد کر دیں اور اس کی قضا و تقدیر پر ہر دم راضی رہیں۔