Surah Al Anfal Ayat 61 (8:61)
The Spoils of War · Juz 10 · Madani
وَ اِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِؕ-اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ 61
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور اگر وہ صلح کی طرف مائل ہوں تو تم بھی مائل ہوجاؤ اوراللہ پر بھروسہ رکھو بیشک وہی سننے والا جاننے والا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اگر وہ صلح کی طرف جھکیں تو تم بھی جھکو اور اللہ پر بھروسہ رکھو بیشک وہی ہے سنتا جانتا۔
Tafseer (Urdu)
{و ان جنحوا للسلم فاجنح لها:اور اگر وہ صلح کی طرف مائل ہوں تو تم بھی مائل ہوجاو ۔} اس سے پہلی ایت میں اللہ تعالی نے اپنے مومن بندوں کو دشمنوں کے مقابلے میں قوت کی تیاری اور انہیں خوفزدہ کرنے کا سامان کرنے کا حکم دیا اور اس ایت میں یہ حکم دیا کہ اگر وہ صلح کی طرف مائل ہوں اور صلح کی درخواست کریں تو ان کی صلح قبول کر لو۔ (خازن الانفال تحت الایۃ: ۶۱ ۲ / ۲۰۷) کفار سے صلح سے متعلق 3مسائل: اس ایت میں کفار سے صلح کا ذکر ہواا س مناسبت سے یہاں ہم صلح سے متعلق تین مسائل ذکر کرتے ہیں : (1)…اگر صلح مسلمانوں کے حق میں بہتر ہو تو صلح کرنا جائز ہے اگرچہ کچھ مال لے کر یا دے کر صلح کی جائے اور صلح کے بعد اگر مصلحت صلح توڑنے میں ہو تو توڑ دیں مگر یہ ضروری ہے کہ پہلے انھیں اس کی اطلاع کردیں اور اطلاع کے بعد فورا جنگ شروع نہ کریں بلکہ اتنی مہلت دیں کہ کافر بادشاہ اپنے تمام ممالک میں اس خبر کو پہنچا سکے۔ یہ اس صورت میں ہے کہ صلح میں کوئی مدت معین نہ کی گئی ہو اور اگر مدت معین کی گئی ہو تو مدت پوری ہونے پر اطلاع دینے کی کچھ حاجت نہیں۔ (درمختار وردالمحتار کتاب الجہاد مطلب فی بیان نسخ المثلۃ ۶ / ۲۱۲) (2)… جس مشرک سے معاہدہ کیا جائے وہ مشرکین عرب میں سے نہ ہو کیونکہ عرب کے مشرکین سے صرف اسلام قبول کیا جائے گا یا جنگ۔ (بدائع الصنائع کتاب السیر رکن العقد فی الامان الموبد وشرائطہ ۶ / ۷۸) (3)… مرتد ہونے والوں سے صرف اسلام قبول کیا جائے یا ان سے جنگ کی جائے گی ان سے نہ صلح جائز ہے اور نہ جزیہ لینا جائز ہے۔