Surah Al Anfal Ayat 65 (8:65)
The Spoils of War · Juz 10 · Madani
یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلَى الْقِتَالِؕ-اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ عِشْرُوْنَ صٰبِرُوْنَ یَغْلِبُوْا مِائَتَیْنِۚ-وَ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ یَّغْلِبُوْۤا اَلْفًا مِّنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ 65
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاے نبی! مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دو، اگر تم میں سے بیس صبر کرنے والے ہوں گے تو دو سو پر غالب آئیں گے اور اگر تم میں سے سو ہوں گے تو ہزار کافروں پر غالب آئیں گے کیونکہ کافر سمجھ نہیں رکھتے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاے غیب کی خبریں بتانے والے مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دو اگر تم میں کے بیس صبر والے ہوں گے دو سو پر غالب ہوں گے اور اگر تم میں کے سو ہوں تو کافروں کے ہزا ر پر غالب آئیں گے اس لیے کہ وہ سمجھ نہیں رکھتے۔
Tafseer (Urdu)
{یایها النبی:اے نبی!۔}اس ایت میں اللہ تعالی کی طرف سے وعدہ اور بشارت ہے کہ مسلمانوں کی جماعت صابر رہےتومدد الہی سے دس گنا کافروں پر غالب رہے گی کیونکہ کفار جاہل ہیں اور ان کی جنگ سے غرض نہ حصول ثواب ہے نہ خوف عذاب جانوروں کی طرح لڑتے بھڑتے ہیں تو وہ للہیت کے ساتھ لڑنے والوں کے مقابل کیا ٹھہر سکیں گے۔ (مدارک الانفال تحت الایۃ: ۶۵ ص۴۲۰) بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو مسلمانوں پر فرض کردیا گیا کہ مسلمانوں کا ایک فرددس افراد کے مقابلہ سے نہ بھاگے پھر آیت ’’ الـن خفف الله‘‘ نازل ہوئی تو یہ لازم کیا گیا کہ ایک سو مجاہدین دو سو 200 لوگوں کے مقابلے میں قائم رہیں۔(بخاری کتاب التفسیر باب الان خفف اللہ عنکم۔۔۔ الخ ۳ / ۲۳۱ الحدیث: ۴۶۵۳) یعنی دس گنا سے مقابلہ کی فرضیت منسوخ ہوئی اور دو گنا کے مقابلہ سے بھاگنا ممنوع رکھا گیا۔ جہاد کی ترغیب: اس ایت میں مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دینے کے حکم سے معلوم ہوا کہ جہاد بہت اعلی عبادت ہے جس کی رغبت دلانے کا حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو حکم دیا گیا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ جہاد کی ہر جائز طریقہ سے رغبت دینا جائز ہے۔ غازی کی تنخواہ مقرر کرنا اس کے بیوی بچوں کی پرورش کرنا بہادروں کی قدر دانی کرنا سب اس میں داخل ہیں۔ اس ایت کے علاوہ قران پاک کی اور کئی ایات میں کفار سے جہاد کرنے کی ترغیب بیان کی گئی ہےچنانچہ ارشاد باری تعالی ہے: ’’یایها الذین امنوا هل ادلكم على تجارة تنجیكم من عذاب الیم(۱۰)تؤمنون بالله و رسوله و تجاهدون فی سبیل الله باموالكم و انفسكم-ذلكم خیر لكم ان كنتم تعلمون‘‘(الصف۱۰ ۱۱) ترجمہ کنزالعرفان: اے ایمان والو! کیا میں تمہیں وہ تجارت بتادوں جو تمہیں دردناک عذاب سے بچالے۔ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھو اور اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ جہاد کرو یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم (اپنا حقیقی نفع) جانتے ہو۔ ایک مقام پر ارشاد فرمایا: ’’ان الله اشترى من المؤمنین انفسهم و اموالهم بان لهم الجنة-یقاتلون فی سبیل الله فیقتلون و یقتلون‘‘ (التوبہ:۱۱۱) ترجمہ کنزالعرفان: بیشک اللہ نے مسلمانوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال اس بدلے میں خرید لئے کہ ان کے لیے جنت ہے وہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں تو (کافروں کو) قتل کرتے ہیں اور شہید ہوتے ہیں۔ ایک جگہ ارشاد فرمایا: ’’یایها الذین امنوا ما لكم اذا قیل لكم انفروا فی سبیل الله اثاقلتم الى الارض-ارضیتم بالحیوة الدنیا من الاخرة-فما متاع الحیوة الدنیا فی الاخرة الا قلیل(۳۸)الا تنفروا یعذبكم عذابا الیما ﳔ و یستبدل قوما غیركم و لا تضروه شیــٴـا-و الله على كل شیء قدیر‘‘(التوبہ۳۸ ۳۹) ترجمہ کنزالعرفان: اے ایمان والو!تمہیں کیا ہوا جب تم سے کہا جائے کہ اللہ کی راہ میں نکلو تو زمین کے ساتھ لگ جاتے ہو۔ کیا تم اخرت کی بجائے دنیا کی زندگی پر راضی ہوگئے تو اخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کا سازو سامان بہت ہی تھوڑا ہے۔ اگر تم (اللہ کی راہ میں) کوچ نہیں کرو گے تووہ تمہیں دردناک سزا دے گا اور تمہاری جگہ دوسرے لوگوں کو لے آئے گااور تم اس کا کچھ نہیں بگا ڑ سکوگے اوراللہ ہرشے پر قادرہے۔ اسی طرح کثیر احادیث میں بھی جہاد کی ترغیب دی گئی ہے ان میں سے 5احادیث درج ذیل ہیں : (1)…صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’سب سے بہتر اس کی زندگی ہے جو اللہ عزوجل کی راہ میں اپنے گھوڑے کی باگ پکڑے ہوئے ہے جب کوئی خوفناک آواز سنتا ہے یا خوف میں اسے کوئی بلاتا ہے تو اڑ کر (یعنی بہت جلد) پہنچ جاتا ہے۔ قتل و موت کو اس کی جگہوں میں تلاش کرتا ہے (یعنی مرنے کی جگہ سے ڈرتا نہیں ہے) یا اس کی زندگی بہتر ہے جو چند بکریاں لے کر پہاڑ کی چوٹی پر یا کسی وادی میں رہتا ہے وہاں نماز پڑھتا ہے اور زکوۃ دیتا ہے اور مرتے دم تک اپنے رب عزوجل کی عبادت کرتا ہے۔ (مسلم کتاب الامارۃ باب فضل الجہاد والرباط ص۱۰۴۸ الحدیث: ۱۲۵(۱۸۸۹)) (2)…حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’مشرکین سے اپنے مال جان اور زبان سے جہاد کرو۔ (ابوداود کتاب الجہاد باب کراہۃ ترک الغزو ۳ / ۱۶ الحدیث: ۲۵۰۴) یعنی دین حق کی اشاعت میں ہر قسم کی قربانی کے لیے تیار ہو جاؤ۔ (3)…حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جو مرجائے اور نہ تو جہاد کرے اور نہ اپنے دل میں اس کا خیال کرے تو وہ نفاق کے ایک حصے پر مرے گا۔(مسلم کتاب الامارۃ باب ذم من مات ولم یغز۔۔۔ الخ ص۱۰۵۷ الحدیث: ۱۵۸(۱۹۱۰)) (4)… حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ غازی ( مجاہد) کے لیے اس کا ثواب ہے اور غازی کے مددگار کے لیے اپنا ثواب ہے اور غازی کا ثواب ۔(ابوداود کتاب الجہاد باب الرخصۃ فی اخذ الجعائل ۳ / ۲۴ الحدیث: ۲۵۲۶) (5)…حضرت زید بن خالد رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس نے اللہ عزوجل کی راہ میں جہاد کرنے والے کو سامان دیا تو اس نے جہاد کیا ـ اور جو کسی غازی کے گھر بار میں بھلائی کے ساتھ اس کا نائب بن کر رہا اس نے جہاد کیا ۔ (بخاری کتاب الجہاد والسیر باب فضل من جہز غازیا۔۔۔ الخ ۲ / ۲۶۷ الحدیث: ۲۸۴۳) {علم ان فیكم ضعفا:اسے علم ہے کہ تم کمزو ر ہو۔} اس سے ایمان کی کمزوری نہیں بلکہ ابدان کی کمزوری مراد ہے۔(روح البیان الانفال تحت الایۃ: ۶۶ ۳ / ۳۷۱ ملخصا) یعنی پہلے تو سو کے مقابلہ میں دس مسلمانوں کو ڈٹ جانا فرض تھا اب سو کافروں کے مقابلے میں پچاس کو ڈٹ جانا فرض رہ گیا۔