Surah Abasa Ayat 24 (80:24)
He Frowned · Juz 30 · Makki
فَلْیَنْظُرِ الْاِنْسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖ 24
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتو آدمی کو چاہیے اپنے کھانوں کو دیکھے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتو آدمی کو چاہئے اپنے کھانوں کو دیکھے
Tafseer (Urdu)
{فلینظر الانسان الى طعامه: تو آدمی کو چاہیے اپنے کھانوں کو دیکھے۔} اس سے پہلی ایات میں اللہ تعالی کی وحدانیت اور قدرت کے وہ دلائل بیان کئے گئے جو انسان کی اپنی ذات میں موجود ہیں اور اب اس عالم میں موجود ان چیزوں کے ذریعے اللہ تعالی کی وحدانیت اور قدرت کے دلائل بیان کئے جا رہے ہیں جو انسان کی ضروریات زندگی میں داخل ہیں اور انسان اپنی زندگی گزارنے کے لئے ان چیزوں کا محتاج ہے۔چنانچہ اس ایت اور ا س کے بعد والی 8 ایات کا خلاصہ یہ ہے کہ ’’ آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے کھانے کی ان چیزوں کو غور سے دیکھ لے جنہیں وہ کھاتا ہے اور وہ چیزیں اس کی زندگی اور حیات کا سبب ہیں کہ ان میں بھی اس کے رب عزوجل کی قدرت ظاہر ہےانسان غور کرے کہ کس طرح وہ کھانے کی چیزیں اس کے بدن کا حصہ بنتی ہیں اور کس عجیب نظام سے وہ کام میں آتی ہیں اور کس طرح رب عزوجل وہ چیزیں عطا فرماتا ہے کھانے کی یہ چیزیں ملنے کا قدرتی نظام یہ ہے کہ اللہ تعالی نے بادل سے زمین پر اچھی طرح بارش کا پانی ڈالا کیونکہ پانی کھانے والی چیزوں کی پیداوار کا ذریعہ ہے پھر اس نے زمین کو خوب چیرا جس سے دانے کا کمزور پودا نمودار ہوتا ہے اگر رب تعالی زمین کو چیر نہ دیتا تو کمزور کو نپل باہر کیسے نکلتی اور تمہارے فائدے کے لئے اس زمین سے اللہ تعالی نے گندم اور جو وغیرہ اناج اگایا جن سے غذا حاصل کی جاتی ہے اور زمین سے انگور چارہ زیتون کھجور گھنے باغیچے اورپھل پیدا کئے اور تمہارے چوپایوں کے فائدے کے لئے گھاس پیدا کی توغور کرو کہ جس رب تعالی نے اپنے بندوں پر احسان کرتے ہوئے انہیں ایسی عظیم نعمتیں عطا کی ہیں ا س کی عبادت سے منہ پھیرنا اور اس پر ایمان لانے سے تکبر کرنا کسی عقلمند انسان کے شایان شان کس طرح ہو سکتا ہے۔( تفسیرکبیر عبس تحت الایۃ: ۲۴-۳۲ ۱۱ / ۵۹-۶۱ خازن عبس تحت الایۃ: ۲۴-۳۲ ۴ / ۳۵۴ مدارک عبس تحت الایۃ: ۲۴-۳۲ ص۱۳۲۲ روح البیان عبس تحت الایۃ: ۲۴-۳۲ ۱۰ / ۳۳۸-۳۳۹ ملتقطا)