Surah Al Mutaffifin Ayat 29 (83:29)
The Defrauding · Juz 30 · Makki
اِنَّ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا كَانُوْا مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَضْحَكُوْنَ٘ 29
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariبیشک مجرم لوگ ایمان والوں پر ہنسا کرتے تھے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبے شک مجرم لوگ ایمان والوں سے ہنسا کرتے تھے
Tafseer (Urdu)
{ان الذین اجرموا: بیشک مجرم لوگ۔} اس سے پہلی ایات میں اخرت میں ابرار کو ملنے والی نعمتوں کو بیان کیا گیا اور اب یہاں سے مسلمانوں کو تسلی دینے کے لئے یہ بیان کیا جا رہا ہے کہ دنیا میں کفار کس طرح مسلمانوں کا مذاق اڑاتے اور ان پر ہنستے تھے اور اخرت میں معاملہ ا س کے برعکس ہو گاچنانچہ اس ایت اور اس کے بعد والی7ایات کا خلاصہ یہ ہے کہ بیشک مجرم لوگ جیسے ابوجہل ولید بن مغیرہ اور عاص بن وائل وغیرہ کفار کے سردار ایمان والوں جیسے حضرت عمار حضرت خباب حضرت صہیب اورحضرت بلال وغیرہ غریب مومنین پر ہنسا کرتے تھے اور جب وہ غریب مومنین ان مالدار کافر سرداروں کے پاس سے گزرتے تو یہ سردارآپس میں طعن کے طور پر ان مومنین پر آنکھوں سے اشارے کرتے تھے اور جب یہ کافر اپنے گھروں کو لوٹتے تومسلمانوں کو برا کہہ کر آپس میں ان کی ہنسی بناتے اور خوش ہوتے ہوئے لوٹتے اور جب مسلمانوں کو دیکھتے توکہتے: بیشک یہ لوگ بہکے ہوئے ہیں کہ سرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم پر ایمان لے ائے اور دنیا کی لذتوں کو آخرت کی امیدوں پر چھوڑ دیا۔ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے کہ ان کافروں کو مسلمانوں پر نگہبان بناکر نہیں بھیجا گیا کہ وہ ان کے احوال اور اعمال پر گرفت کریں بلکہ ان کفار کو اپنی اصلاح کا حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنا حال درست کریں دوسروں کو بے وقوف بتانے اور ان کی ہنسی اڑانے سے یہ لوگ کیا فائدہ اٹھا سکتے ہیں تو جس طرح کافر دنیا میں مسلمانوں کی غربت اور محنت پر ہنستے ہیں اسی طرح قیامت کے دن ایمان والے کافروں پر ہنسیں گے اور قیامت کے دن معاملہ اس کے برعکس ہو گا کہ ایمان والے دائمی عیش اور راحت میں ہوں گے اور کافر ذلت و خواری کے دائمی عذاب میں ہوں گے جب جہنم کا دروازہ کھولا جائے گا تو کافر جہنم سے نکلنے کے لئے دروازے کی طرف دوڑیں گے اور جب وہ دروازہ کے قریب پہنچیں گے تو دروازہ بند ہوجائے گا اوران کے ساتھ بار بار ایسا ہی ہوگا اور کافروں کی یہ حالت دیکھ کر مسلمان ان پر ہنسیں گے اور مسلمانوں کا حال یہ ہوگا کہ وہ جنت میں جواہرات کے تختوں پر بیٹھ کر کفار کی ذلت و رسوائی اورعذاب کی شدت کودیکھ رہے ہوں گے اور اس پر ہنستے ہوں گے اور کافروں کو ان کے کئے ہوئے ان اعمال ہی کا بدلہ دیا جائے گا جو انہوں نے دنیا میں کئے تھے کہ مسلمانوں کا مذاق اڑاتے تھے اور ان پر ہنستے تھے۔بعض مفسرین نے ان ایات کے شان نزول میں یہ روایت بھی ذکر کی ہے کہ حضرت علی المرتضی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم مسلمانوں کے ایک گروہ کے ساتھ تشریف لے جارہے تھے منافقین نے انہیں دیکھ کر آنکھوں سے اشارے کئے اور مسخری سے ہنسے اور آپس میں ان حضرات کے حق میں بے ہودہ کلمات کہے تو حضرت علی المرتضی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم کے حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم کی خدمت میں پہنچنے سے پہلے ہی یہ آیتیں نازل ہوگئیں ۔( تفسیرکبیرالمطففینتحت الایۃ: ۲۹-۳۶ ۱۱ / ۹۴-۹۵ خازن المطففین تحت الایۃ: ۲۹-۳۶ ۴ / ۳۶۲ مدارک المطففین تحت الایۃ: ۲۹-۳۶ ص۱۳۳۱-۱۳۳۲ ملتقطا)