Surah Al Inshiqaq Ayat 22 (84:22)
The Sundering · Juz 30 · Makki
بَلِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُكَذِّبُوْنَ٘ 22
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariبلکہ کافر جھٹلا رہے ہیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبلکہ کافر جھٹلا رہے ہیں ۔
Tafseer (Urdu)
{بل الذین كفروا یكذبون: بلکہ کافر جھٹلا رہے ہیں ۔} اس ایت اور ا س کے بعد والی3ایات کا خلاصہ یہ ہے کہ جن دلائل کی وجہ سے ایمان لانے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں رہتا وہ اگرچہ ظاہر ہیں لیکن کفار قران کی ایات کواور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کو اپنے باپ دادا کی پیروی کی وجہ سے یا حسد کی وجہ سے یا اس خوف کی وجہ سے جھٹلا رہے ہیں کہ اگر انہوں نے ایمان قبول کر لیا تو ان کا دنیوی منصب اور دنیا کے فوائد ختم ہو جائیں گے اور اللہ تعالی اسے خوب جانتا ہے جو کفروشرک اور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم کو جھٹلانا وہ اپنے دلوں میں محفوظ رکھتے ہیں تو اے پیارے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم تم انہیں ان کے کفر اور عناد پر دردناک عذاب کی بشارت سنادو مگر ان میں سے جو لوگ کفر سے توبہ کر کے سچے دل سے ایمان لے ائے اور انہوں نے اچھے اعمال کئے توان کے لیے اخرت میں وہ ثواب ہے جو کبھی ختم نہیں ہوگا بلکہ ہمیشہ رہے گا۔( تفسیرکبیر الانشقاق تحت الایۃ : ۲۲-۲۵ ۱۱ / ۱۰۴-۱۰۵ خازن الانشقاق تحت الایۃ: ۲۲-۲۵ ۴ / ۳۶۴ ملتقطا) کفار کی حالت سامنے رکھتے ہوئے مسلمان بھی اپنے حال پر غور کریں : اس سے معلوم ہوا کہ کفار کے ایمان قبول نہ کرنے کی ایک وجہ یہ تھی کہ انہیں اپنے دنیوی منصب چھن جانے اور دنیا کے وہ فوائد ختم ہو جانے کا خوف تھا جو انہیں حاصل تھے۔کفار کے اسی خوف کو سامنے رکھتے ہوئے ان مسلمانوں کو بھی اپنی حالت پر غور کرنا چاہئے جو دنیا کی عزتوجاہتدولت اور مرتبے ختم ہونے کے خوف سے اسلام کی تعلیمات اور اس کے احکامات پر عمل کرنے سے خود بھی دور بھاگتے ہیں اور اپنی اولادوں کو بھی دور رکھتے ہیں اور فقط کبھی کبھار نماز پڑھ لینا یا تھوڑا بہت اللہ اللہ کر لینا اپنی اخروی نجات کے لئے کافی سمجھتے ہیں ۔