Surah At Tariq Ayat 6 (86:6)
The Nightcommer · Juz 30 · Makki
خُلِقَ مِنْ مَّآءٍ دَافِقٍ 6
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاچھل کر نکلنے والے پانی سے پیدا کیا گیا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanجَسْت کرتے پانی سے۔
Tafseer (Urdu)
{خلق من مآء دافق: اچھل کر نکلنے والے پانی سے پیدا کیا گیا۔} یہاں سے وہ چیز بیان کی گئی ہے جس سے اللہ تعالی نے انسان کو پیدا فرمایا ہے چنانچہ اس ایت اور اس کے بعد والی ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالی نے انسان کو اچھل کر نکلنے والے پانی یعنی مرد اور عورت کے نطفوں سے پیدا کیاجو کہ عورت کے رحم میں مل کر ایک ہوجاتے ہیں اور یہ نطفہ مردوں کی پیٹھ اور عورتوں کے سینوں کے درمیان سے نکلتا ہے۔حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں کہ یہ پانی عورت کے سینے کے اس مقام سے نکلتا ہے جہاں ہار پہنا جاتا ہے اورانہیں سے منقول ہے کہ عورت کی دونوں چھاتیوں کے درمیان سے نکلتا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ منی انسان کے تمام اعضاء سے برآمد ہوتی ہے اور اس کا زیادہ حصہ دماغ سے مرد کی پشت میں آتا ہے اورعورت کے بدن کے اگلے حصے کی بہت سی ان رگوں میں سے اتا ہے جوسینے کے مقام پر ہیں اسی لئے یہاں ان دونوں مقامات کا ذکر خصوصیت سے فرمایا گیا۔( مدارک الطارق تحت الایۃ: ۶-۷ ص۱۳۳۸ خازن الطارق تحت الایۃ: ۶-۷ ۴ / ۳۶۸ ملتقطا) {انه على رجعه لقادر: بیشک اللہ اس کے واپس کرنے پر ضرورقادر ہے۔} یعنی انسان کا اپنی تخلیق میں غور کرنے کا نتیجہ یہ ہے کہ جس رب تعالی نے انسان کو نطفہ سے پہلی بار پیدا کر دیا تو وہ انسان کی موت کے بعد اسے دوبارہ زندگی کی طرف لوٹا دینے پرخاص طور پر قادر ہے۔( صاوی الطارق تحت الایۃ: ۸ ۶ / ۲۳۴۶ مدارک الطارق تحت الایۃ: ۸ ص۱۳۳۸ ملتقطا)