Surah Al Ala Ayat 14 (87:14)
The Most High · Juz 30 · Makki
قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰى 14
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariبیشک جس نے خود کو پاک کرلیا وہ کامیاب ہوگا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبیشک مراد کو پہنچا جو ستھرا ہوا۔
Tafseer (Urdu)
{قد افلح من تزكى: بیشک جس نے خود کو پاک کرلیا وہ کامیاب ہوگا۔} اس ایت میں لفظ ’’تزكى‘‘ کے بارے میں ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد خود کو کفر و شرک اور گناہوں سے پاک کرنا ہے ۔دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد نماز کے لئے طہارت حاصل کرنا ہے۔ اس صورت میں اس آیت سے نماز کے لئے وضو اورغسل کرناثابت ہوتا ہے۔ تیسرا قول یہ ہے کہ اس سے زکوۃ ادا کر کے مال کو پاک کرنا مراد ہےاس صورت میں یہ ایت زکوۃ فرض ہونے پر دلالت کرتی ہے۔( تفسیرات احمدیہ الاعلی ص۷۴۰) لیکن اس ایت کے زکوۃ سے متعلق ہونے پر اشکال ہے کیونکہ یہ سورت مکی ہے جبکہ زکوۃ کا حکم مدینہ منورہ میں نازل ہوا۔ صوفیا ء کے نزدیک تزکیہ کا مطلب: مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃاللہ تعالی علیہ نے تحریر فرمایا ہے کہ صوفیاء کے نزدیک تزکیہ کا (مطلب) دل (کو) برے عقیدے برے خیالات (اور) تصور غیر سے پاک کرنا ہے۔ دل کی صفائی یا وہبی ہے یا کسبی یا عطائی۔ وہبی تزکیہ پیدائشی ہوتا ہے کسبی اپنے اعمال سے (جبکہ) عطائی کسی کی نظر سے جیسے بادل اور سورج دور رہتے ہوئے بھی گندی زمین کو پاک کر دیتے ہیں ایسے ہی اللہ والوں کی نظر دور سے بھی گندے دلوں کو پاک کردیتی ہے۔( نور العرفان الاعلی تحت الایۃ: ۱۴ ص۹۷۷)