Surah Al Ala Ayat 3 (87:3)
The Most High · Juz 30 · Makki
وَ الَّذِیْ قَدَّرَ فَهَدٰىﭪ 3
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور جس نے اندازے پر رکھا پھر راہ دکھائی۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور جس نے اندازہ پر رکھ کر راہ دی۔
Tafseer (Urdu)
{و الذی قدر فهدى: اور جس نے اندازے پر رکھا پھر راہ دکھائی۔} اس ایت کا ایک معنی یہ ہے کہ اس رب عزوجل کے نام کی پاکی بیان کروجس نے تمام مخلوقات میں سے ہر مخلوق کو اس کی ذات اور صفات میں صحیح اندازے پر رکھا چنانچہ اللہ تعالی نے اسمانوںستاروں عناصر معادننباتات حیوانات اور انسانوں کو مخصوص جسامت عطا کی اور ان میں سے ہر ایک کے باقی رہنے کی مدت معین اندازے پر رکھی اور ان کی صفاترنگذائقےبو حسن قباحت سعادت بدبختیہدایت اور گمراہی کی مقدارخاص اندازے پر رکھی اور راہ دکھانے کے بارے بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی نے انسان کو اچھائی برائی اور سعادت و بدبختی کے راستے دکھا دئیے۔( تفسیرکبیر الاعلی تحت الایۃ: ۳ ۱۱ / ۱۲۹ ملتقطا) انسان اچھا یا برا راستہ چننے کا اختیار رکھتا ہے:ـ یاد رہے کہ اللہ تعالی نے انسان کو راستے دکھادئیے ہیں اوران راستوں میں سے کسی ایک کو چن لینے پر اسے ایک طرح کاا ختیار بھی دے دیا ہے اب اس کی مرضی ہے کہ وہ جس راستے کوچاہے اختیار کرےجیسا کہ ایک اور مقام پر اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ’’انا خلقنا الانسان من نطفة امشاج ﳓ نبتلیه فجعلنه سمیعا بصیرا(۲)انا هدینه السبیل اما شاكرا و اما كفورا‘‘(دہر:۲ ۳) ترجمہ کنزالعرفان: بیشک ہم نے آدمی کو ملی ہوئی منی سے پیدا کیا تاکہ ہم اس کا امتحان لیں توہم نے اسے سننے والا دیکھنے والا بنا دیا۔ بیشک ہم نے اسے راستہ دکھا دیا (اب) یا شکرگزار ہے اور یا ناشکری کرنے والا ہے۔ اور ارشاد فرمایا: ’’و نفس و ما سوىهاﭪ(۷) فالهمها فجورها و تقوىهاﭪ(۸) قد افلح من زكىهاﭪ(۹) و قد خاب من دسىها‘‘(شمس:۷۔۱۰) ترجمہ کنزالعرفان: اور جان کی اور اس کی جس نے اسے ٹھیک بنایا۔پھر اس کی نافرمانی اور اس کی پرہیزگاری کی سمجھ اس کے دل میں ڈالی۔ بیشک جس نے نفس کو پاک کرلیا وہ کامیاب ہوگیا ۔اور بیشک جس نے نفس کو گناہوں میں چھپایا وہ ناکام ہوگیا۔ زیر تفسیر ایت کادوسرا معنی یہ ہے کہ اس رب عزوجل کے نام کی پاکی بیان کرو جس نے ہر مخلوق کی غذا اور روزی مقدر کی اور انسانوں کو ان کی غذاوں دواوں اوران کے دنیوی امور کی ان چیزوں کی طرف راہ دی جن میں ان کی مصلحت ہے اور درندوں پرندوں اور حشرات الارض کو ان کے معاش اور ان کی ضروریات کا راستہ دکھایا۔( جمل الاعلی تحت الایۃ: ۳ ۸ / ۲۹۷) اللہ تعالی نے اپنی پیدا کی ہوئی ہر مخلوق کو اس کی روزی کا راستہ کس طرح دکھایا ہے اس کا نظارہ اس کی پیدا کی ہوئی مخلوق کو اپنی مقررہ روزی حاصل کرتے دیکھ کر کیا جا سکتا ہے اور اللہ تعالی کی اس رہنمائی کے عجائبات ہر جگہ دیکھے جاسکتے ہیں ۔حیوانات میں اس موضوع پر تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے لئے امام دمیری رحمۃاللہ تعالی علیہ کی کتاب ’’حیات الحیوان‘‘ کا مطالعہ فرمائیں ۔