Surah Al Ala Ayat 6 (87:6)
The Most High · Juz 30 · Makki
سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسٰۤى 6
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attari(اے حبیب!)اب ہم تمہیں پڑھائیں گے تو تم نہ بھولو گے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاب ہم تمہیں پڑھائیں گے کہ تم نہ بھولو گے۔
Tafseer (Urdu)
{سنقرئك فلا تنسى: اب ہم تمہیں پڑھائیں گے تو تم نہ بھولو گے۔} جب حضرت جبریل علیہ السلام وحی لے کر نازل ہوتے تو وہ ابھی ایت کا اخری حصہ پڑھ کر فارغ نہیں ہوتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم اس اندیشے سے اس ایت کا ابتدائی حصہ پڑھنا شروع کر دیتے کہ کہیں بھول نہ جائیں اس پر اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: ’’اے پیارے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم ہم حضرت جبریل علیہ السلام کے ذریعے تمہیں قران پڑھائیں گے تو جو کچھ اپ کے سامنے پڑھا جائے گا اپ اسے نہیں بھولیں گے۔ (خازن الاعلی تحت الایۃ: ۶ ۴ / ۳۷۰) تفسیر جمل میں ہے کہ یہ اللہ تعالی کی طرف سے اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم کو بشارت ہے کہ آپ کو قرآن پاک حفظ کرنے کی نعمت کسی محنت کے بغیرعطا ہوئی ہے اور یہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم کا معجزہ ہے کہ اتنی بڑی اور عظیم کتاب کسی محنت و مشقت اور تکرار کے بغیر آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم کو حفظ ہوگئی۔( جمل الاعلی تحت الایۃ: ۶ ۸ / ۲۹۸ ملخصا) ایت ’’سنقرئك فلا تنسى‘‘ سے حاصل ہونے والی معلوماتـ: اس ایت سے 6باتیں معلوم ہوئیں : (1)… علم اللہ تعالی کی بہت بڑی نعمت ہے۔ (2)… حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم تمام مخلوق سے افضل و اعلی ہیں کہ انہیں اللہ تعالی نے پڑھایا ہے۔ (3)…حضرت جبریل علیہ السلام حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم کے استاد نہیں بلکہ وہ اللہ تعالی کے پیغام اس کے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم کی خدمت میں پہنچانے پر مامور ہیں ۔ (4)… حضور انور صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم کا علم بہت اعلی ہے ۔ (5)…مخلوق میں سے کوئی نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم کے برابر عالم نہیں ہے ۔ (6)… انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام سے ہونے والی بھول بھی اللہ تعالی کی طرف سے ہوتی ہیں اور اس میں ہزارہا حکمتیں ہوتی ہیں جیسے سارے عالم کا ظہور حضرت ادم علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک نسیان کی برکت سے ہے لہذا ہماری اور انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی بھول میں بڑا فرق ہے۔