Surah Al Ala Ayat 7 (87:7)
The Most High · Juz 30 · Makki
اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُؕ-اِنَّهٗ یَعْلَمُ الْجَهْرَ وَ مَا یَخْفٰىﭤ 7
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariمگر جو اللہ چاہے بیشک وہ ہر کھلی اور چھپی بات کوجانتا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanمگر جو اللہ چاہے بیشک وہ جانتا ہے ہر کھلے اور چھپے کو۔
Tafseer (Urdu)
{الا ما شآء الله: مگر جو اللہ چاہے۔} اس استثناء کے بارے میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں ان میں سے 4 قول درج ذیل ہیں (1)…یہ استثناء تبر ک کے لئے ہے حقیقت میں حاصل نہیں ہوا اور جب اللہ تعالی نے پڑھا دیا تو اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم کوئی چیز نہیں بھولے ۔ (2)…اس استثناء سے یہ بتانا مقصود ہے کہ اگر اللہ تعالی اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم کو کوئی چیز بھلانا چاہے تو وہ ا س پر قدرت رکھتا ہے جیسا کہ ایک اور مقام پر اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: ’’و لىن شئنا لنذهبن بالذی اوحینا الیك‘‘(بنی اسرائیل:۸۶) ترجمہ کنزالعرفان: اور اگر ہم چاہتے توہم جو اپ کی طرف وحی بھیجتے ہیں اسے لے جاتے۔ اور ہمیں یقین ہے کہ اللہ تعالی نے ایسا نہیں چاہا۔ (3)…اس ایت کا معنی یہ ہے کہ اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم اپ (قران مجید میں سے) جو کچھ پڑھیں گے اس میں سے کچھ نہ بھولیں گے البتہ جس ایت کے بارے میں اللہ تعالی خود چاہے گا وہ اپ کو بھلا دے گا اور ا س کی صورت یہ ہو گی کہ اللہ تعالی اس ایت کی تلاوت اور حکم دونوں منسوخ فرما دے گا۔یاد رہے کہ جن ایتوں کی تلاوت اور حکم دونوں منسوخ ہوئے ہیں وہ تمام ایتیں حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم نہیں بھولے بلکہ ان میں سے جن ایتوں کے بارے میں اللہ تعالی نے چاہا انہیں اپ کے دل سے اٹھا لیا ۔ (4)…یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہاں بھولنے سے معروف معنی مراد ہوں یعنی عارضی طور پر بھول جانااس صورت میں ایت کا معنی یہ ہو گا کہ اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم اپ قران مجیدمیں سے کچھ نہ بھولیں گے البتہ جو اللہ تعالی خود چاہے وہ بھول جائیں گے پھر وہ چیز ہمیشہ کے لئے بھولی نہ رہے گی بلکہ بعد میں یاد ا جائے گی۔ اس معنی کی تائید ان احادیث سے ہوتی ہے جن میں حضورا قدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم کا کسی ایت کو بھول جانے کاذکر ہے اور ان سے یہ واضح ہوتا ہے بعض مواقع پر حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم (عارضی طور پر) کچھ ایات بھولے تھے اور اپ کا یہ بھولنا امت کے بھولنے کی طرح نہیں ہے ۔(تفسیرکبیرالاعلی تحت الایۃ: ۷ ۱۱ / ۱۳۱ روح البیان الاعلی تحت الایۃ: ۷ ۱۰ / ۴۰۶ روح المعانی الاعلی تحت الایۃ: ۷ ۱۵ / ۴۴۴-۴۴۵ ملتقطا) {انه یعلم الجهر و ما یخفى: بیشک وہ ہر کھلی اور چھپی بات کوجانتا ہے۔} اس ایت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ اے پیارے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم جب اپ حضرت جبریل علیہ السلام کے ساتھ بلند اواز سے پڑھتے ہیں اللہ تعالی اسے جانتا ہے اوراپ کے دل میں جو قران بھول جانے کا خوف ہے اسے بھی جانتاہے لہذا اپ اسے بھول جانے کا خوف نہ کریں یہ ہمارے ذمہ کرم پر ہے کہ اپ قران نہ بھولیں ۔( تفسیرکبیر الاعلی تحت الایۃ: ۷ ۱۱ / ۱۳۱) دوسری تفسیر یہ ہے کہ اللہ تعالی بندوں کے ظاہری افعال اور ان کے اقوال جانتا ہے اور ان کے پوشیدہ اقوال اور افعال سے بھی خبردارہے۔( تفسیر سمرقندی الاعلی تحت الایۃ: ۷ ۴ / ۴۷۰) ظاہر و باطن دونوں کو درست رکھنا چاہئے: اس سے معلوم ہوا کہ انسان کو اپنا ظاہر بھی ٹھیک کرنا چاہئے اور اپنا باطن بھی درست رکھنا چاہئے کیونکہ اللہ تعالی اس کے ہر ظاہری باطنی قول اور فعل سے باخبر ہےجیسا کہ ہمارے ظاہری اور پوشیدہ اعمال کے بارے میں ایک اور مقام پر اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ’’یعلم سركم و جهركم و یعلم ما تكسبون‘‘(انعام:۳) ترجمہ کنزالعرفان: وہ تمہاری ہر پوشیدہ اور ظاہر بات کو جانتا ہے اور وہ تمہارے سب کام جانتا ہے۔ اور ارشاد فرمایا: ’’انه یعلم الجهر من القول و یعلم ما تكتمون‘‘(انبیاء:۱۱۰) ترجمہ کنزالعرفان: بیشک اللہ بلند اواز سے کہی گئی بات کو جانتا ہے اور وہ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو۔ اور ارشاد فرمایا: ’’ان الذین یلحدون فی ایتنا لا یخفون علینا-افمن یلقى فی النار خیر ام من یاتی امنا یوم القیمة-اعملوا ما شئتم-انه بما تعملون بصیر‘‘(حم السجدہ:۴۰) ترجمہ کنزالعرفان: بیشک وہ جو ہماری آیتوں میں سیدھی راہ سے ہٹتے ہیں وہ ہم پر پوشیدہ نہیں ہیں تو کیا جسے آ گ میں ڈالا جائے گا وہ بہتر ہے یا وہ جو قیامت میں امان سے آئے گا۔ تم جو چاہو کرتے رہو بیشک اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے۔ اورحضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی ہے کہ جس نے اپنے اور اللہ تعالی کے مابین معاملے کو اچھا کر لیا تو اللہ تعالی اسے ا س کے اور لوگوں کے درمیان معاملے کو کافی ہو گا اور جس نے اپنے باطن کی اصلاح کر لی تو اللہ تعالی ا س کے ظاہر کو درست کر دے گا۔ (جامع صغیر حرف المیم ص۵۰۸ الحدیث: ۸۳۳۹) لہذاہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اپنے باطن کو سنوارنے کی بھر پور کوشش کرے اور اس کے لئے یہ دعا بھی مانگا کرے چنانچہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں مجھے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم نے یہ دعا سکھائی ’’اللہم اجعل سریرتی خیرا من علانیتی واجعل علانیتی صالحۃ اللہم انی اسالک من صالح ما تؤتی الناس من المال والاہل والولد غیر الضال ولا المضل‘‘ اے اللہ! عزوجل میر ا باطن میرے ظاہر سے اچھا کر دے اور میرے ظاہر کو نیک و صالح بنادے ۔ اے اللہ! عزوجل میں تجھ سے وہ اچھا گھر بار مال اولاد جو نہ گمراہ ہو اور نہ گمراہ گر ہو مانگتا ہوں جو تو لوگوں کو دیتا ہے۔( ترمذی احادیث شتی ۱۲۳-باب ۵ / ۳۳۹ الحدیث: ۳۵۹۷)