Surah Al Fajr Ayat 15 (89:15)
The Dawn · Juz 30 · Makki
فَاَمَّا الْاِنْسَانُ اِذَا مَا ابْتَلٰىهُ رَبُّهٗ فَاَكْرَمَهٗ وَ نَعَّمَهٗ ﳔ فَیَقُوْلُ رَبِّیْۤ اَكْرَمَنِﭤ 15
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتوبہرحال آدمی کوجب اس کا رب آزمائے کہ اس کوعزت اور نعمت دے تو اس وقت وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھے عزت دی۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanلیکن آدمی تو جب اسے اس کا رب آزمائے کہ اس کو جاہ اور نعمت دے جب تو کہتا ہے میرے رب نے مجھے عزت دی ۔
Tafseer (Urdu)
{فاما الانسان: تو بہرحال ادمی۔} یہاں سے انسان کی ازمائش کا بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالی بندوں کو مال و دولت اور نعمت و عزت دے کر بھی ازماتا ہے اورواپس لے کر بھی ازماتا ہے ۔ اس میں مومن و مخلص اور مطیع و فرمانبردار تو ہر حال میں اللہ تعالی کی رضا پر راضی رہتا ہے کہ نعمت پر شکر کرتا ہے اور مصیبت پر صبر لیکن غافل اورجاہل کا طرز عمل اس کے برخلاف ہوتا ہے کہ اگر اسے نعمت و عزت کے ذریعے ازمایا جائے تو وہ خودپسندی کا شکار ہوجاتاہے اور اس نعمت پر اللہ تعالی کا شکر ادا کرنے اور اسے اللہ تعالی کا فضل و احسان قرار دینے کی بجائے اپنا حق سمجھتا ہے اور اپنا کمال قرار دیتا ہے اور اس دنیوی مال و دولت کو اللہ تعالی کے ہاں مقبولیت کی دلیل قرار دیتا ہے ۔ اس کے برعکس جب اللہ تعالی اسے رزق کی تنگی میں مبتلا کرکے یا دوسری تکالیف کے ذریعے ازماتا ہے تو اللہ تعالی سے شکوہ و شکایت کرتا ہے اور ہر ایک کے سامنے جا کر واویلا کرتا ہے اور مال و دولت کی اس کمی کو اللہ تعالی کے ہاں مردودیت کی علامت سمجھتا ہے۔ یہ تمام کا تمام طرز عمل حقیقی مسلمان کی شان کے برخلاف ہے کہ سچے مسلمان کو اگر مال و دولت اور عزت ملتی ہے تو وہ اسے اپنا ذاتی استحقاق قرار دینے کی بجائے خالصتا اللہ تعالی کی نعمت اور اس کا فضل قرار دیتا ہے اور اگر کوئی مصیبت اتی ہے تو اسے اپنے گناہوں کا نتیجہ یا خدائی ازمائش قرار دے کر اللہ تعالی کی رضا پر راضی رہتا ہے۔ یونہی سچے مسلمان مال و دولت کی کثرت کو اللہ تعالی کے ہاں مقبولیت اور قلت کو مردودیت کی دلیل نہیں سمجھتے بلکہ ان کے نزدیک مقبولیت کا معیار تقوی ہے اور مردودیت کا سبب نافرمانی ہے۔ ان ایات مبارکہ میں جو طرز عمل بیان کیا گیا ہے یہ حقیقتا کفار کا ہے لیکن افسوس کہ اج کل کے بہت سے نام نہاد مسلمان بھی غیر مسلموں کی دنیوی ترقی سے مرعوب ہوکرایسی سوچ بنالیتے ہیں کہ اگر کفار مردود ہیں تو اتنی نعمت و ترقی میں کیوں ہیں اور اگر مسلمان مقبول ہیں تو اتنی ذلت و پستی میں کیوں ہیں حالانکہ بات بالکل واضح ہے کہ مسلمان کی موجودہ پستی اسلام کی وجہ سے نہیں بلکہ ترک اسلام کی وجہ سے ہے یعنی اسلامی تعلیمات چھوڑنے کی وجہ سے ہے اور کفار کی ترقی ان کے کفر کی وجہ سے نہیں بلکہ زندگی گزارنے کی جو حقیقی اسلامی تعلیمات ہیں ان میں بہت ساری چیزوں پر عمل کی وجہ سے ہے۔