Surah Al Fajr Ayat 23 (89:23)
The Dawn · Juz 30 · Makki
وَ جِایْٓءَ یَوْمَىٕذٍۭ بِجَهَنَّمَ ﳔ یَوْمَىٕذٍ یَّتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ وَ اَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰىﭤ 23
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور اس دن جہنم لائی جائے گی ،اس دن آدمی سوچے گا اور اب اس کے لئے سوچنے کا وقت کہاں ؟
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اس دن جہنم لائی جائے اس دن آدمی سوچے گا اور اب اسے سوچنے کا وقت کہاں ۔
Tafseer (Urdu)
{و جایء یومىذۭ بجهنم: اور اس دن جہنم لائی جائے گی۔} قیامت کے دن جہنم کو لائے جانے کا منظر بڑا ہولناک ہے چنانچہ مفسرین فرماتے ہیں کہ جہنم کی ستر ہزار باگیں ہوں گی ہر باگ پر ستر ہزار فرشتے جمع ہو کر اس کو کھینچیں گے اور وہ جوش و غضب میں ہوگی یہاں تک کہ فرشتے اس کو عرش کے بائیں جانب لائیں گے اس روز سب نفسی نفسی کہتے ہوں گے سوائے حضور پرنور حبیب خدا سید انبیاء صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم کے کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم ’’یارب امتی امتی‘‘ فرماتے ہوں گے جہنم حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم سے عرض کرے گی کہ اے سید عالم! صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم آپ کا میرا کیا واسطہ! اللہ تعالی نے آپ کو مجھ پر حرام کر دیا ہے۔ (قرطبی الفجر تحت الایۃ: ۲۳ ۱۰ / ۳۹ الجزء العشرون)اس دن انسان سوچے گا اور اپنی غلطیوں لغزشوں خطاوں اور گناہوں کو سمجھے گالیکن وہ وقت سوچنے کا نہیں ہوگا اور اس وقت کا سوچنا سمجھنا کچھ بھی فائدہ نہ دے گااور اس سوچنے سے صرف حسرت حاصل ہوگی اور اسی وجہ سے قیامت کا ایک نام یوم الحسرۃ یعنی حسرت کا دن بھی ہے۔ {یقول یلیتنی قدمت لحیاتی: وہ کہے گا: اے کاش کہ میں نے اپنی زندگی میں (کوئی نیکی) آگے بھیجی ہوتی۔} ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن ادمی کہے گا کہ اے کاش! میں نے اپنی زندگی میں کوئی نیکی آگے بھیجی ہوتی ۔یہاں زندگی سے مراد یا دنیوی زندگی ہے یا اخروی زندگی پہلی صورت میں ایت کا مطلب یہ ہے کہ کاش میں دنیوی زندگی میں کچھ نیکیاں کما کر اگے بھیج دیتا۔ دوسری صورت میں مطلب یہ ہے کہ کاش میں نے اس دائمی زندگی کے لئے کچھ بھیج دیا ہو تا ساری عمر فانی زندگی کے لئے کمائی کی اور خدا کو یاد نہ کیا۔ کفار کے لئے یہ پچھتانا بھی عذاب ہو گا دنیا میں نیکو کار مومن کا نادم ہونا درجات کی ترقی کا سبب ہے اورگنہگار مومن کا پچھتانا توبہ ہے مگر کافر کا قیامت میں پچھتانا محض عذاب ہے۔