Surah At Taubah Ayat 12 (9:12)
The Repentance · Juz 10 · Madani
وَ اِنْ نَّكَثُـوْۤا اَیْمَانَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَ طَعَنُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ فَقَاتِلُـوْۤا اَىٕمَّةَ الْكُفْرِۙ-اِنَّهُمْ لَاۤ اَیْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ یَنْتَهُوْنَ 12
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور اگرمعاہدہ کرنے کے بعد اپنی قسمیں توڑیں اور تمہارے دین میں طعنہ زنی کریں تو کفر کے پیشواؤں سے لڑو، بیشک ان کی قسموں کا کوئی اعتبار نہیں (ان سے لڑو) تا کہ یہ باز آئیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اگر عہد کرکے اپنی قسمیں توڑیں اور تمہارے دین پر منہ آئیں تو کفر کے سرغنوں سے لڑو بیشک ان کی قسمیں کچھ نہیں اس امید پر کہ شاید وہ باز آئیں۔
Tafseer (Urdu)
{و ان نكثوا ایمانهم من بعد عهدهم:اور اگرمعاہدہ کرنے کے بعد اپنی قسمیں توڑیں۔ } یہاں حکم دیا گیا کہ اگر کفار معاہدہ توڑ دیں اور مسلمانوں کے دین میں طعن و تشنیع کریں تو پھر کوئی عہد باقی نہیں بلکہ اب ان کا فیصلہ میدان جنگ میں ہی ہوگا۔ (خازن التوبۃ تحت الایۃ: ۱۲ ۲ / ۲۲۰) دین میں طعنہ زنی سے کیا مراد ہے دین میں طعنہ زنی سے مراد یہ ہے کہ دین اسلام کی طرف کوئی ایسی بات منسوب کرنا جو دین اسلام کے شایان شان نہیں یا ضروریات دین میں سے کسی چیز کو ہلکا جان کر اس پر اعتراض کرنا۔اسی طرح نماز اور حج پر طعنہ زنی کرنا قران اور ذکر رسول پر طعنہ زنی کرنا یا رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی شان پاک میں گستاخی کرنا سب اس میں داخل ہے۔(تفسیر قرطبی براء ۃ تحت الایۃ: ۱۲ ۴ / ۱۷ الجزء الثامن روح المعانی التوبۃ تحت الایۃ: ۱۲ ۵ / ۳۵۳ ملتقطا) ایت’’و ان نكثوا ایمانهم‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات: اس ایت سے دو باتیں معلوم ہوئیں : (1)… جن مشرکین سے معاہدہ کیا گیا ہو تو اس معاہدے کے قائم رہنے کی ایک صورت یہ ہے کہ وہ ہمارے دین پر اعلانیہ طعنہ زنی نہ کریں اور اگر وہ اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی شان میں یا قران سے متعلق کسیگستاخی کے مرتکب ہوں تو ان کا معاہدہ ختم اور ان کے خلاف جنگ کی جائے گی۔ (احکام القران للجصاص سورۃ التوبۃ ۳ / ۱۱۰ ملخصا) (2)… کفار کے ساتھ جنگ کرنے سے مسلمانوں کی غرض ان کے ذاتی مفادات نہیں بلکہ انہیں کفرو بداعمالی سے روکنا ہے اور یہی اسلامی جہاد کا سب سے اہم مقصد ہے۔