Surah At Taubah Ayat 13 (9:13)
The Repentance · Juz 10 · Madani
اَلَا تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّكَثُـوْۤا اَیْمَانَهُمْ وَ هَمُّوْا بِاِخْرَاجِ الرَّسُوْلِ وَ هُمْ بَدَءُوْكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍؕ-اَتَخْشَوْنَهُمْۚ-فَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَوْهُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ 13
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariکیا تم اس قوم سے نہیں لڑو گے جنہوں نے اپنی قسمیں توڑیں اور رسول کونکالنے کا ارادہ کیا حالانکہ پہلی مرتبہ انہوں نے ہی تم سے ابتداء کی تھی تو کیا تم ان سے ڈرتے ہو؟ پس اللہ اس کا زیادہ حقدار ہے کہ تم اس سے ڈرو اگر ایمان رکھتے ہو۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanکیا اس قوم سے نہ لڑو گے جنہوں نے اپنی قسمیں توڑیں اور رسول کے نکالنے کا ارادہ کیا حالانکہ انہیں کی طرف سے پہل ہوئی ہے کیا ان سے ڈرتے ہو تو اللہ اس کا زیادہ مستحق ہے کہ اس سے ڈرو اگر ایمان رکھتے ہو۔
Tafseer (Urdu)
{الا تقاتلون قوما:کیا تم اس قوم سے نہیں لڑو گے۔} ارشاد فرمایا کہ کیا تم اس قوم سے نہیں لڑو گے جنہوں نے اپنی قسمیں توڑیں اور صلح حدیبیہ کا عہد توڑا اور مسلمانوں کے حلیف خزاعہ کے مقابل بنی بکر کی مدد کی اور دارالندوہ میں مشورہ کرکے رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو مکہ مکرمہ سے نکالنے کا ارادہ کیا حالانکہ پہلی مرتبہ انہوں نے ہی تم سے لڑائی کی ابتداء کی تھی تو کیا تم ان سے ڈرتے ہو اور ا س بنا پر ان سے جنگ ترک کرتے ہو پس اگر تم اللہ تعالی کے وعدے اور وعید پر ایمان رکھتے ہو تواللہ عزوجل اس کا زیادہ حق دار ہے کہ تم کافروں سے جنگ ترک کرنے کے معاملے میں اس سے ڈرو۔( خازن التوبۃ تحت الایۃ: ۱۳ ۲ / ۲۲۰) اس سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی توہین و ایذاء مسلمانوں سے عہد شکنی اور شروفساد کی ابتداء کرنا کفار کی وہ غلطی ہے جس کی سزا انہیں ملنی چاہیے۔ ایمان کامل کا تقاضا! اس ایت سے یہ بھی معلوم ہو اکہ ایمان کامل کا تقاضا یہ ہے کہ مومن اپنے رب عزوجل کے سوا کسی سے ڈرے اور نہ ا س کے علاوہ کسی کی پرواہ کرے۔ ایک مقام پر اللہ تعالی منصب رسالت پر فائز ہستیوں کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے: ’’الذین یبلغون رسلت الله و یخشونه و لا یخشون احدا الا الله-و كفى بالله حسیبا‘‘ (احزاب:۳۹) ترجمہ کنزالعرفان: وہ جو اللہ کے پیغامات پہنچاتے ہیں اور اس سے ڈرتے ہیں اور اللہ کے سوا کسی کا خوف نہیں کرتے اور اللہ کافی حساب لینے والاہے۔ اور اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم سے ارشاد فرماتا ہے: ’’انما ذلكم الشیطن یخوف اولیآءه ۪-فلا تخافوهم و خافون ان كنتم مؤمنین‘‘ (ال عمران:۱۷۵) ترجمہ کنزالعرفان:بیشک وہ تو شیطان ہی ہے جو اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے تو تم ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو اگر تم ایمان والے ہو۔