Surah Ad Duha Ayat 6 (93:6)
The Morning Hours · Juz 30 · Makki
اَلَمْ یَجِدْكَ یَتِیْمًا فَاٰوٰى 6
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariکیا اس نے تمہیں یتیم نہ پایا پھر جگہ دی۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanکیا اس نے تمہیں یتیم نہ پایا پھر جگہ دی۔
Tafseer (Urdu)
{الم یجدك یتیما فاوى: کیا اس نے تمہیں یتیم نہ پایا پھر جگہ دی۔} سرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم ابھی اپنی والدہ ماجدہ کے بطن میں تھے اور حمل شریف دو ماہ کا تھا کہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم کے والد صاحب نے مدینہ شریف میں وفات پائی اور نہ کچھ مال چھوڑا نہ کوئی جگہ چھوڑی ان کی وفات کے بعدآپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم کی خدمت کی ذمہ داری آپ کے دادا عبدالمطلب نے سنبھالی جب آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم کی عمر شریف چار یا چھ سال کی ہوئی تو والدہ صاحبہ نے بھی وفات پائی اور جب عمر شریف آٹھ سال کی ہوئی تو آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم کے دادا عبدالمطلب نے بھی وفات پائی انہوں نے اپنی وفات سے پہلے اپنے فرزند ابوطالب کو آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم کی خدمت و نگرانی کی وصیت کی جو کہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم کا حقیقی چچا تھا ابوطالب آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم کی خدمت میں سرگرم رہا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم نے اللہ تعالی کے حکم سے نبوت کا اعلان فرمایا ۔ اس آیت کی تفسیر میں مفسرین نے ایک معنی یہ بھی بیان کیاہے کہ یتیم کا مطلب ہے یکتا و بے نظیر جیسے کہا جاتا ہے’’ دریتیم ‘‘اس صورت میں آیت کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالی نے آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم کو عزت و شرافت میں یکتا و بے نظیر پایا اور آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم کو مقام قرب میں جگہ دی اور اپنی حفاظت میں آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم کے دشمنوں کے اندر آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم کی پرورش فرمائی اور آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم کو نبوت و رسالت اور اپنا چنا ہوا بندہ ہونے کے ساتھ مشرف کیا ۔(خازن الضحی تحت الایۃ: ۶ ۴ / ۳۸۶ جمل الضحی تحت الایۃ: ۶ ۸ / ۳۴۷ روح البیان الضحی تحت الایۃ: ۶ ۱۰ / ۴۵۶-۴۵۷ ملتقطا)