Surah Ad Duha Ayat 8 (93:8)
The Morning Hours · Juz 30 · Makki
وَ وَجَدَكَ عَآىٕلًا فَاَغْنٰىﭤ 8
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور اس نے تمہیں حاجت مند پایا تو غنی کر دیا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور تمہیں حاجت مند پایا پھر غنی کردیا ۔
Tafseer (Urdu)
{و وجدك عآىلا فاغنى: اور اس نے تمہیں حاجت مند پایا تو غنی کردیا۔} اس ایت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم کو حاجت مند پایا تو حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا کے مال(پھر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے مالپھر حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کے مال ) اور پھر غنیمت کے مال کے ذریعے اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم کو غنی کر دیا ۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم کو حاجت مند پایا تو قناعت کی دولت عطا فرما کر غنی کر دیا۔( خازن الضحی تحت الایۃ: ۸ ۴ / ۳۸۷) تین خوش نصیب حضرات: اس ایت کی پہلی تفسیر سے معلوم ہوا کہ حضرت خدیجہ حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہم بڑے خوش نصیب ہیں کہ اللہ تعالی نے انہیں اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم کی خدمت کرنے کا موقع عطا فرمایا۔ حقیقی طور پر مالدار کون ہے ایت کی دوسری تفسیر سے معلوم ہو اکہ حقیقی طور پر مالدار وہ ہے جسے اللہ تعالی نے قناعت کی دولت سے نوازا ہے۔یہاں اسی سے متعلق دو احادیث بھی ملاحظہ ہوں چنانچہ (1)…حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےرسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم نے ارشاد فرمایا ’’ مالداری کثرت مال سے حاصل نہیں ہوتی بلکہ حقیقی مالدرای نفس کا بے نیاز ہونا ہے۔( بخاری کتاب الرقاق باب الغنی غنی النفس ۴ / ۲۳۳ الحدیث: ۶۴۴۶) (2)…حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم نے ارشاد فرمایا’’جس نے اسلام قبول کیا اور جسے ضرورت کے مطابق روزی دی گئی اور جسے اللہ تعالی نے ان چیزوں پر قناعت کرنے والا بنا دیاجواسے دی گئی ہیں تو اس نے کامیابی حاصل کر لی۔( مسلم کتاب الزکاۃ باب فی الکفاف والقناعۃ ص۵۲۴ الحدیث: ۱۲۵(۱۰۵۴)) اللہ تعالی ہمیں بھی قناعت کی عظیم دولت سے مالا مال فرمائےامین۔