Surah At Tin Ayat 6 (95:6)
The Fig · Juz 30 · Makki
اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَهُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍﭤ 6
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariمگر وہ لوگ جو ایمان لائے اورانہوں نے اچھے کام کئے تو ان کے لئے بے انتہاء ثواب ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanمگر جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے کہ انہیں بے حد ثواب ہے۔
Tafseer (Urdu)
{الا الذین امنوا: مگر وہ لوگ جو ایمان لائے۔ } یعنی جو لوگ ایمان لائے اورانہوں نے اچھے کام کئے تو ان کیلئے بے انتہا ثواب ہے اگرچہ بڑھاپے کی کمزوری کے باعث وہ جوانی کی طرح کثیر عبادات بجا نہ لا سکے اور ان کے عمل کم ہو جائیں لیکن اللہ تعالی کے کرم سے انہیں وہی اجر ملے گا جو جوانی اور قوت کے زمانہ میں عمل کرنے سے ملتا تھا اور ان کے اتنے ہی عمل لکھے جائیں گے جتنے جوانی میں لکھے جاتے تھے اور جہنم کے سب سے نچلے درکات ان کا ٹھکانہ نہ ہو گا۔( خازن والتین تحت الایۃ: ۶ ۴ / ۳۹۱ مدارک التین تحت الایۃ: ۶ ص۱۳۶۱ ملتقطا) اسی طرح کا معاملہ ایک حدیث پاک میں بھی بیان کیاگیا ہے چنانچہ حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم نے ارشاد فرمایا’’مسلمان بندہ جب بیمار ہو جائے یا سفر میں ہو تو ا س کے لئے ان اعمال کا ثواب لکھا جائے گاجو وہ تندرست اور مقیم ہونے کی حالت میں کیا کرتا تھا(لیکن بیماری یا سفر کی وجہ سے نہ کر پایا)۔( مسند امام احمد مسند الکوفیین حدیث ابی موسی الاشعری رضی اللہ تعالی عنہ ۷ / ۱۷۷ الحدیث: ۱۹۷۷۴) ایت’’ الا الذین امنوا ‘‘سے حاصل ہونے والی معلومات: اس ایت سے دو باتیں معلوم ہوئیں (1)… ایمان اعمال پر مقدم ہے اورایمان کے بغیرکوئی نیکی درست نہیں ۔ (2)… لمبی عمر ملنا اور اعمال کا نیک ہونا بہت بڑی نعمت ہے۔حضرت ابو بکرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں : ’’ایک اعرابی نے بارگاہ رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم میں عرض کی: یا رسول اللہ! صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم لوگوں میں سب سے بہتر کون ہےارشاد فرمایا: ’’وہ شخص سب سے بہتر ہے جس کی عمر لمبی ہو اور عمل نیک ہوں ۔ اس نے عرض کی:لوگوں میں سب سے برا کون ہے ا رشاد فرمایا:’’وہ شخص سب سے برا ہے جس کی عمر لمبی ہو اور عمل برے ہوں ۔( ترمذی کتاب الزہد ۲۲-باب منہ ۴ / ۱۴۸ الحدیث: ۲۳۳۷)