Surah Al Alaq Ayat 4 (96:4)
The Clot · Juz 30 · Makki
الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ 4
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariجس نے قلم سے لکھنا سکھایا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanجس نے قلم سے لکھنا سکھایا ۔
Tafseer (Urdu)
{الذی علم بالقلم: جس نے قلم سے لکھنا سکھایا۔ }یعنی وہ رب عزوجل بڑا کریم ہے جس نے قلم سے لکھنا سکھایا جس کے ذریعے غائب امور کی پہچان حاصل ہوتی ہے ۔( خازن العلق تحت الایۃ: ۴ ۴ / ۳۹۳) کتابت کی فضیلت: اس ایت سے کتابت کی فضیلت ثابت ہوئی اور درحقیقت کتابت میں بڑے منافع اور فوائدہیں کتابت ہی سے علوم ضبط میں آتے ہیں گزرے ہوئے لوگوں کی خبر یں ان کے احوال اور ان کے کلام محفوظ رہتے ہیں اگر کتابت نہ ہوتی تو دین و دنیا کے کام قائم نہ رہ سکتے۔( خازن العلق تحت الایۃ: ۴ ۴ / ۳۹۳) حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم نے ارشاد فرمایا’’علم کو قید کر لو۔میں نے عرض کی:اسے قید کرنا کیا ہے ارشاد فرمایا’’علم کو لکھ لینا(اسے قید کرنا ہے)۔( مستدرک کتاب العلم قیدوا العلم با لکتاب ۱ / ۳۰۳ الحدیث: ۳۶۹) {علم الانسان ما لم یعلم: انسان کو وہ سکھایا جو وہ نہ جانتا تھا۔} ایک قول یہ ہے کہ یہاں انسان سے حضرت ادم علیہ الصلوۃ والسلام مراد ہیں اور جو انہیں سکھایا اس سے مراد اشیاء کے ناموں کا علم ہے۔جیسا کہ دوسرے مقام پر اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: ’’ و علم ادم الاسمآء كلها ‘‘(بقرہ:۳۱) ترجمہ کنزالعرفان: اور اللہ تعالی نے آدم کو تمام اشیاءکے نام سکھادئیے۔ اورایک قول یہ ہے کہ یہاں انسان سے حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم مراد ہیں کہ انہیں اللہ تعالی نے تمام اشیاء کے علوم عطا فرمائے۔جیسا کہ ایک اور مقام پرنبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم کے بارے میں اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: ’’ و علمك ما لم تكن تعلم-و كان فضل الله علیك عظیما‘‘(النساء :۱۱۳) ترجمہ کنزالعرفان: اور اپ کو وہ سب کچھ سکھا دیا جو اپ نہ جانتے تھے اور اپ پر اللہ کافضل بہت بڑا ہے۔ ( تفسیر بغوی العلق تحت الایۃ: ۵ ۴ / ۴۷۵ ملخصا)