Surah Al Zalzalah Ayat 2 (99:2)
The Earthquake · Juz 30 · Madani
وَ اَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَهَا 2
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور زمین اپنے بوجھ باہر پھینک دے گی۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور زمین اپنے بوجھ باہر پھینک دے ۔
Tafseer (Urdu)
{و اخرجت الارض اثقالها: اور زمین اپنے بوجھ باہر پھینک دے گی۔} یعنی جب زمین اپنے اندر موجود خزانے اور مردے سب نکال کر باہر پھینک دے گی۔ یاد رہے انسان اور جنات بوجھ والے وجود ہیں جب تک زمین کے اوپر موجود ہیں تو وہ زمین پر بوجھ ہیں اور جب زمین کے اندر ہوں تو زمین کے لئے بوجھ ہیں اسی وجہ سے انسانوں اور جنات کو ثقلین کہا جاتا ہے کیونکہ یہ مردہ ہوں یا زندہ زمین ان کا بوجھ اٹھاتی ہے۔( مدارک الزلزلۃ تحت الایۃ: ۲ ص۱۳۶۸ خازن الزلزلۃ تحت الایۃ: ۲ ۴ / ۴۰۰-۴۰۱ ملتقطا) زمین کے اس عمل کے بارے میں ایک اور مقام پر اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:’’ و اذا الارض مدت(۳)والقت ما فیها و تخلت(۴)و اذنت لربها و حقت(۵) یایها الانسان انك كادح الى ربك كدحا فملقیه ‘‘(انشقاق:۳-۶) ترجمہ کنزالعرفان: اور جب زمین کو دراز کر دیا جائے گا۔اور جو کچھ اس میں ہے زمین اسے (باہر)ڈال دے گی اور خالی ہوجائے گی۔اور وہ اپنے رب کا حکم سنے گی اور اسے یہی لائق ہے۔اے انسان!بیشک تو اپنے رب کی طرف دوڑنے والا ہے پھر اس سے ملنے والا ہے۔ اورحضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم نے ارشاد فرمایا ’’زمین سونے چاندی کے ستونوں جیسے اپنے جگر پارے اگل دے گیقاتل دیکھ کر کہے گا کہ اسی(مال ) کی وجہ سے تو میں نے قتل کیا تھارشتہ دار ی توڑنے والا کہے گا:اسی وجہ سے تو میں نے رشتہ داری توڑی تھیچور دیکھ کر کہے گا کہ اسی مال کی وجہ سے میرا ہاتھ کاٹا گیا تھا پھر سب اس مال کو چھوڑ دیں گے اور کوئی اس میں سے کچھ نہیں لے گا۔( مسلم کتاب الزکاۃ باب الترغیب فی الصدقۃ قبل ان لا یوجد من یقبلہا ص۵۰۵ الحدیث: ۶۲(۱۰۱۳)) {و قال الانسان ما لها: اور آدمی کہے گا:اسے کیا ہوا } یعنی اس زلزلے کے وقت جو لوگ موجود ہوں گے وہ حیرت سے کہیں گے:زمین کو کیا ہو ا کہ ایسی مضطرب ہوئی اور اتنا شدید زلزلہ آیا کہ جو کچھ اس کے اندر تھا اس نے سب باہر پھینک دیا۔( روح البیان الزلزلۃ تحت الایۃ: ۳ ۱۰ / ۴۹۲)