Surah Hud Ayat 101 (11:101)
Hud · Juz 12 · Makki
وَ مَا ظَلَمْنٰهُمْ وَ لٰـكِنْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَمَاۤ اَغْنَتْ عَنْهُمْ اٰلِهَتُهُمُ الَّتِیْ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ لَّمَّا جَآءَ اَمْرُ رَبِّكَؕ-وَ مَا زَادُوْهُمْ غَیْرَ تَتْبِیْبٍ 101
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور ہم نے ان پر ظلم نہ کیا بلکہ خود انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تواللہ کے سوا جن معبودوں کی عبادت کرتے تھے وہ ان کے کچھ کام نہ آئے جب تیرے رب کا حکم آیا اور انہوں نے ان کے نقصان میں ہی اضافہ کیا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور ہم نے ان پر ظلم نہ کیا بلکہ خود انہوں نے اپنا برا کیا تو ان کے معبود جنہیں اللہ کے سوا پوجتے تھے ان کے کچھ کام نہ آئے جب تمہارے رب کا حکم آیا اور ا ن سے انہیں ہلاک کے سوا کچھ نہ بڑھا۔
Tafseer (Urdu)
{و ما ظلمنهم:اور ہم نے ان پر ظلم نہ کیا ۔} اس ایت کا ایک معنی یہ ہے کہ ہم نے انہیں عذاب اور ہلاکت میں مبتلا کر کے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ کفر اور گناہوں کا ارتکاب کر کے انہوں نے خود اپنی جانوں پر ظلم کیا۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ کسی قوم پر اللہ تعالی کی طرف سے عذاب نازل ہو تو وہ اللہ عزوجل کا ظلم نہیں بلکہ عدل اور انصاف ہے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلے قوم کفر اور گناہوں میں مبتلاہو کر اپنی جانوں پر ظلم کرتی ہے پھر ان برے اعمال کی وجہ سے اپنے اوپر اس عذاب کو لازم کر لیتی ہے ۔ (تفسیر کبیر ہود تحت الایۃ: ۱۰۱ ۶ / ۳۹۶) {و ما زادوهم غیر تتبیب:اور انہوں نے ان کے نقصان میں ہی اضافہ کیا۔} بتوں کے بارے میں کفار کا عقیدہ یہ تھا کہ وہ بت نفع پہنچانے میں اور نقصان دور کرنے میں ان کی مدد کرتے ہیں۔اس ایت میں اللہ تعالی نے بتا دیا کہ جب کافروں کو مدد کی ضرورت ہو گی تو اس وقت یہ بت نہ تو انہیں کوئی فائدہ پہنچا سکیں گے اور نہ کوئی مصیبت ان سے دور کر سکیں گےچنانچہ جب وہ اپنے عقیدے کوحقیقت کے خلاف پائیں گے تو اس وقت ان کا یہ عقیدہ ختم ہو جائے گا لیکن تب اس عقیدے کو چھوڑنے کا کوئی فائدہ نہ ہو گا یوں دنیا اور اخرت دونوں ہی جگہ وہ خسارے کا شکار ہوں گے۔ (تفسیر کبیر ہود تحت الایۃ: ۱۰۱ ۶ / ۳۹۶)