Surah Hud Ayat 35 (11:35)
Hud · Juz 12 · Makki
اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُؕ-قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُهٗ فَعَلَیَّ اِجْرَامِیْ وَ اَنَا بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُجْرِمُوْنَ 35
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariکیا یہ کہتے ہیں کہ یہ اس نے خود ہی بنالیا ہے ۔ تم فرماؤ: اگر میں نے بنا (بھی) لیا ہو تو میرا جرم صرف مجھ پر ہے اور میں تمہارے جرم سے بیزار ہوں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanکیا یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اُسے اپنے جی سے بنالیا تم فرماؤ اگر میں نے بنالیا ہوگا تو میرا گناہ مجھ پر ہے اور میں تمہارے گناہ سے الگ ہوں۔
Tafseer (Urdu)
{ام یقولون:کیا یہ کہتے ہیں۔} اس ایت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام کی قوم کے لوگ یہ کہتے ہیں کہ جو بات حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام اللہ تعالی کی طرف منسوب کرتے ہیں وہ انہوں نے اپنے پاس سے ہی بنا لی ہے۔تواے نوح! علیہ الصلوۃ والسلامتم ان سے فرما دو کہ بالفرض اگر میں نے اپنے پا س سے بنا لی ہے تو مجھے میرے گناہ کی سزا ملے گی (لیکن حقیقت یہ ہے کہ) تم نے میرے اوپر جو تہمت لگائی ہے میں تمہارے اس جرم سے بیزار ہوں۔(تفسیر ابو سعود ہود تحت الایۃ: ۳۵ ۳ / ۲۸-۲۹) اس تفسیر کے مطابق اس ایت کا تعلق حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام کے واقعے کے ساتھ ہی ہے ۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ اے حبیب!صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکیا کفار مکہ یہ کہتے ہیں کہ محمد مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے یہ قران خود ہی بنا لیا اور یہ کہہ کر کفاراسےاللہ عزوجل کا کلام ماننے اور اس کے احکام ماننے سے گریز کرتے ہیں اور اس کے رسول پر بہتان باندھتے ہیں اور ان کی طرف افتراء کی نسبت کرتے ہیں جن کی سچائی روشن دلائل اور مضبوط حجتوں سے ثابت ہو چکی ہےلہذا اب ان سے فرما دو کہ اگر بالفرض میں نے بنا بھی لیا ہو تو میرا جرم صرف مجھ پر ہے جس کا وبال ضرور آئے گالیکن بحمداللہ میں سچا ہوں تو تم سمجھ لو کہ تمہاری تکذیب کا وبال تم پر پڑے گا اور تم نے میرے اوپر جو تہمت لگائی ہے میں تمہارے اس جرم سے بیزار ہوں۔ (خازن ہود تحت الایۃ: ۳۵ ۲ / ۳۵۰ مدارک ہود تحت الایۃ: ۳۵ ص۴۹۶ ملتقطا) تفسیر جمل میں ہے کہ اس صورت میں یہ ایت حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام کے قصے کے دوران ا س لئے ذکر کی گئی ہے تاکہ سننے والوں کا نشاط برقرار رہے۔ (جمل ہود تحت الایۃ: ۳۵ ۳ / ۴۲۹)