Surah Hud Ayat 44 (11:44)
Hud · Juz 12 · Makki
وَ قِیْلَ یٰۤاَرْضُ ابْلَعِیْ مَآءَكِ وَ یٰسَمَآءُ اَقْلِعِیْ وَ غِیْضَ الْمَآءُ وَ قُضِیَ الْاَمْرُ وَ اسْتَوَتْ عَلَى الْجُوْدِیِّ وَ قِیْلَ بُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَٛ 44
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور حکم فرمایا گیا کہ اے زمین! اپنا پانی نگل جا اور اے آسمان! تھم جا اور پانی خشک کردیا گیا اور کام تمام ہوگیا اور وہ کشتی جودی پہاڑ پر ٹھہرگئی اور فرما دیا گیا: ظالموں کے لئے دوری ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور حکم فرمایا گیا کہ اے زمین اپنا پانی نگل لے اور اے آسمان تھم جا اور پانی خشک کردیا گیا اور کام تمام ہوا اور کشتی کوہِ جودی پر ٹھہری اور فرمایا گیا کہ دور ہوں بے انصاف لوگ۔
Tafseer (Urdu)
{ و قیل:اور حکم فرمایا گیا۔} جب طوفان اپنی انتہا پر پہنچ گیا اور اللہ تعالی نے حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام کی قوم کو غرق کر دیا تو اللہ تعالی کی طرف سے زمین کو حکم فرمایاگیا کہ اے زمین!اپنا پانی نگل جا اور اسمان کو حکم فرمایا گیا کہ اے آسمان! تھم جا۔ پھر پانی خشک کردیا گیا اور حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام کی قوم کی ہلاکت کا کام پورا ہوگیا۔ حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام کی کشتی چھ مہینے زمین میں گھوم کر جودی پہاڑ پر ٹھہرگئی یہ پہاڑ موصل یا شام کی حدود میں واقع ہے حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام کشتی میں دسویں رجب کو بیٹھے اور دسویں محرم کو کشتی جودی پہاڑ پر ٹھہری تو آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کے شکر کا روزہ رکھا اور اپنے تمام ساتھیوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم فرمایا۔ (خازن ہود تحت الایۃ: ۴۴ ۲ / ۳۵۳-۳۵۴) عاشورہ کے روزے کی فضیلت: دس محرم یعنی عاشورا کے دن روزہ رکھنا سنت ہے جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں :رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے عاشورا کو روزہ خود رکھا اور ا س کے رکھنے کاحکم فرمایا۔(مسلم کتاب الصیام باب ای یوم یصام فی عاشوراء ص۵۷۳ الحدیث: ۱۳۳(۱۱۳۴)) اور ا س کی فضیلت کے بارے میں حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’ مجھے اللہ عزوجل پر گمان ہے کہ عاشورا کا روزہ ایک سال پہلے کے گناہ مٹا دیتا ہے۔ (مسلم کتاب الصیام باب استحباب صیام ثلاثۃ ایام من کل شہر۔۔۔ الخ ص۵۸۹ الحدیث: ۱۹۶(۱۱۶۲))