Surah Hud Ayat 94 (11:94)
Hud · Juz 12 · Makki
وَ لَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا شُعَیْبًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ اَخَذَتِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دِیَارِهِمْ جٰثِمِیْنَ 94
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور جب ہمارا حکم آیا توہم نے شعیب اور اس کے ساتھ کے مسلمانوں کو اپنی رحمت سے بچالیا اور ظالموں کو خوفناک چیخ نے پکڑ لیا تو وہ صبح کے وقت اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل پڑے رہ گئے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور جب ہمارا حکم آیا ہم نے شعیب اور اس کے ساتھ کے مسلمانوں کو اپنی رحمت فرماکر بچالیا اور ظالموں کو چنگھاڑ نے آ لیا تو صبح اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل پڑے رہ گئے۔
Tafseer (Urdu)
{و لما جآء امرنا:اور جب ہمارا حکم آیا۔} یعنی جب مدین والوں پر عذاب نازل کرنے اور انہیں ہلاک کر دینے کا ہمارا حکم ایا تو ہم نے حضرت شعیب علیہ الصلوۃ والسلام اور ان پر ایمان لانے والوں کو محض اپنی رحمت اور فضل کی وجہ سے اس عذاب سے بچا لیا۔ اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بندے کو جو بھی نعمت ملتی ہے وہ اللہ تعالی کے فضل اور اس کی رحمت سے ملتی ہے۔ ایت میں مذکور رحمت سے ایمان اور تمام نیک اعمال بھی مراد ہو سکتے ہیں اور یہ بھی اللہ تعالی کی توفیق ہی سے نصیب ہوتے ہیں۔ (تفسیر کبیر ہود تحت الایۃ: ۹۴ ۶ / ۳۹۲) {و اخذت الذین ظلموا الصیحة: اور ظالموں کو خوفناک چیخ نے پکڑ لیا۔} اس میں مدین والوں پر نازل ہونے والے عذاب کی کیفیت کا بیان ہے۔ یاد رہے کہ قران مجید میں مدین والوں پر انے والے عذاب کی کیفیت دو طرح سے بیان کی گئی ہے ۔ سورہ اعراف میں یہ کیفیت اس طرح بیان ہوئی ’’فاخذتهم الرجفة فاصبحوا فی دارهم جثمین‘‘ (اعراف:۹۱) ترجمہ کنزالعرفان:تو انہیں شدید زلز لے نے اپنی گرفت میں لے لیا تو صبح کے وقت وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔ اور اس ایت میں اس طرح بیان ہوئی کہ ’’ ظالموں کو خوفناک چیخ نے پکڑ لیا تو وہ صبح کے وقت اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل پڑے رہ گئے۔‘‘ ان دونوں کیفیتوں کے بارے میں تفسیر ابوسعود میں ہے ’’ ممکن ہے کہ زلزلے کی ابتدا اس چیخ سے ہوئی ہو اس لئے کسی جگہ جیسے سورہ ہود میں ہلاکت کی نسبت سبب قریب یعنی خوفناک چیخ کی طرف کی گئی اور دوسری جگہ جیسے (سورہ اعراف کی) اس ایت میں سبب بعید یعنی زلزلے کی طرف کی گئی۔ (ابو سعود الاعراف تحت الایۃ: ۹۱ ۲ / ۲۷۶) {الا بعدا لمدین كما بعدت ثمود:خبردار! مدین والے دور ہوں جیسے قوم ثمود دور ہوئی۔} اس ایت میں اللہ تعالی نے مدین والوں پر نازل ہونے والے عذاب کو قوم ثمود کے عذاب سے تشبیہ دیتے ہوئے فرمایا کہ مدین والوں کو بھی اسی طرح کے عذاب سے ہلاک کر دیا گیا جس طرح کے عذاب سے قوم ثمود کو ہلاک کیا گیا۔