Surah Yusuf Ayat 3 (12:3)
Joseph · Juz 12 · Makki
نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْكَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ هٰذَا الْقُرْاٰنَ ﳓ وَ اِنْ كُنْتَ مِنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الْغٰفِلِیْنَ 3
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariہم نے تمہاری طرف اس قرآن کی وحی بھیجی اس کے ذریعے ہم تمہارے سامنے سب سے اچھا واقعہ بیان کرتے ہیں اگرچہ اس سے پہلے تم یقینا اس سے بے خبر تھے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanہم تمہیں سب سے اچھا بیان سناتے ہیں اس لیے کہ ہم نے تمہاری طرف اس قرآن کی وحی بھیجی اگرچہ بیشک اس سے پہلے تمہیں خبر نہ تھی۔
Tafseer (Urdu)
{نحن نقص علیك احسن القصص:ہم تمہارے سامنے سب سے اچھا واقعہ بیان کرتے ہیں۔} یعنی اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہم اپ کے سامنے سابقہ امتوں اور گزشتہ زمانوں کا سب سے اچھا واقعہ بیان کرتے ہیں جو کہ بہت سی عجیب و غریب حکمتوں اور عبرتوں پر مشتمل ہے اور اس میں دین و دنیا کے بہت فوائد بادشاہوں رعایا اور علماء کے احوال عورتو ں کی عادات دشمنوں کی ایذاوں پر صبر اور ان پر قابو پانے کے بعد ان سے درگزر کرنے کا نفیس بیان ہے جس سے سننے والے میں نیک سیرتی اور پاکیزہ خصلتیں پیدا ہوتی ہیں۔ (خازن یوسف تحت الایۃ: ۳ ۳ / ۲-۳ )نیز اس سورت کے ضمن میں ایک انسان کی زندگی کے جملہ مراحل کو بیان کردیا گیا کہ زندگی کے کن مراحل پر کیا کیا چیزیں انسان کو پیش اسکتی ہیں اور ان سے وہ بہترین انداز میں سبکدوش کیسے ہوسکتا ہے۔ {و ان كنت من قبله لمن الغفلین:اگرچہ اس سے پہلے تم یقینا اس سے بے خبر تھے۔}یعنی یہ سورت اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی طر ف وحی کرنے سے پہلے اپ کو اس واقعے کی خبر تھی اور نہ اپ نے اس واقعے کو کبھی سنا تھا۔( ابوسعود یوسف تحت الایۃ: ۳ ۳ / ۷۸) علامہ صاوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: ’’یہ تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا ایک معجزہ ہے کہ اپ نے سب سے اچھے انداز اور بہترین طریقے سے گزشتہ اور ائندہ لوگوں کی خبر دی ہے۔ (صاوی یوسف تحت الایۃ: ۳ ۳ / ۹۴۱) حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کے واقعے کو ’’ احسن القصص‘‘فرمانے کی وجوہات: حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کے واقعے کو ’’ احسن القصص‘‘ فرمانے کی مختلف وجوہات بیان کی گئی ہیں ان میں سے 3 وجوہات درج ذیل ہیں۔ (1)…حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کے واقعے میں جس قدر عبرتیں اور حکمتیں بیان کی گئی ہیں اتنی اور کسی سورت میں بیان نہیں کی گئیں۔ (2)…حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کے اپنے بھائیوں سے انتہائی اچھا سلوک فرمانے ان کی طرف سے پہنچنے والی اذیتوں پر صبر کرنے اور بدلہ لینے پر قادر ہونے کے باوجود انہیں معاف کر دینے کی وجہ سے اپ علیہ الصلوۃ والسلام کے واقعے کو ’’ احسن القصص‘‘فرمایا گیا۔ (3)… حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کے واقعے میں انبیاء کرام صالحین فرشتوں شیطانوں جنوں انسانوں جانوروں اور پرندوں کا ذکر ہے اور اس میں بادشاہوں تاجروں عالموں جاہلوں مردوں اور عورتوں کے طرز زندگی کا بیان اور عورتوں کے مکر وفریب کا ذکر ہے اس کے علاوہ اس واقعے میں توحید رسالت فقہی احکام خوابوں کی تعبیر سیاست معاشرت تدبیرمعاش اور ان تمام فوائد کا بیان ہے جن سے دین و دنیا کی اصلاح ممکن ہے اس لئے اس واقعے کو ’’ احسن القصص‘‘فرمایا گیا۔ (تفسیرقرطبی یوسف تحت الایۃ: ۳ ۵ / ۸۳ الجزء التاسع)