Surah Yusuf Ayat 4 (12:4)
Joseph · Juz 12 · Makki
اِذْ قَالَ یُوْسُفُ لِاَبِیْهِ یٰۤاَبَتِ اِنِّیْ رَاَیْتُ اَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ رَاَیْتُهُمْ لِیْ سٰجِدِیْنَ 4
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariیاد کرو جب یوسف نے اپنے با پ سے کہا: اے میرے باپ! میں نے گیارہ ستاروں اور سورج اور چاند کو دیکھا ، میں نے انہیں اپنے لئے سجدہ کرتے ہوئے دیکھا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanیاد کرو جب یوسف نے اپنے با پ سے کہا اے میرے باپ میں نے گیارہ تارے اور سورج اور چاند دیکھے انہیں اپنے لیے سجدہ کرتے دیکھا ۔
Tafseer (Urdu)
{اذ قال یوسف لابیه:یاد کرو جب یوسف نے اپنے با پ سے کہا۔} یعنی اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپ اپنی قوم کے سامنے حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کی وہ بات بیان کریں جو انہوں نے اپنے باپ حضرت یعقوب علیہ الصلوۃ والسلام سے کہی کہ اے میرے باپ! میں نے گیارہ ستاروں اور سورج اور چاند کو دیکھا میں نے انہیں اپنے لئے سجدہ کرتے ہوئے دیکھا۔ حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کا خواب: مفسرین نے یہ واقعہ یوں بیان کیا ہے کہ حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام نے خواب دیکھا کہ آسمان سے گیارہ ستارے اترے اور ان کے ساتھ سورج اور چاند بھی ہیں ان سب نے آپ کو سجدہ کیا حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ خواب جمعہ کی رات کو دیکھا اور یہ رات شب قدر تھی۔ حضرت قتادہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ’’خواب میں دیکھے گئے ستاروں کی تعبیرآپ علیہ الصلوۃ والسلام کے گیارہ بھائی ہیں اور سورج آپ کے والد اور چاند آپ کی والدہ ہیں۔ آپ کی والدہ ماجدہ کا نام راحیل ہے اورمفسرسدی کا قول ہے کہ چونکہ راحیل کا انتقال ہوچکا تھا اس لئے چاند سے آپ کی خالہ مراد ہیں۔ سجدہ کرنے سے مراد ایک قول کے مطابق تواضع کرنا اور فرمانبردار ہونا ہے اور ایک قول یہ ہے کہ حقیقتا سجدہ مراد ہے کیونکہ اس زمانہ میں سلام کی طرح سجدہ تحیت یعنی تعظیم کا سجدہ بھی جائز تھا۔ حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کی عمرشریف اس وقت بارہ سال کی تھی اور سات سال اور سترہ سال عمر ہونے کے قول بھی کتابوں میں مذکور ہیں۔ (خازن یوسف تحت الایۃ: ۴ ۳ / ۳)