Surah Yusuf Ayat 5 (12:5)
Joseph · Juz 12 · Makki
قَالَ یٰبُنَیَّ لَا تَقْصُصْ رُءْیَاكَ عَلٰۤى اِخْوَتِكَ فَیَكِیْدُوْا لَكَ كَیْدًاؕ-اِنَّ الشَّیْطٰنَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ 5
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariفرمایا: اے میرے بچے! اپنا خواب اپنے بھائیوں کے سامنے بیان نہ کرنا ورنہ تمہارے خلاف کوئی سازش کریں گے ۔بیشک شیطان آدمی کا کھلا دشمن ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanکہا اے میرے بچے اپنا خواب اپنے بھائیوں سے نہ کہنا کہ وہ تیرے ساتھ کوئی چال چلیں گے بیشک شیطان آدمی کا کھلا دشمن ہے۔
Tafseer (Urdu)
{قال یبنی:فرمایا: اے میرے بچے!} مفسرین فرماتے ہیں کہ حضرت یعقوب علیہ الصلوۃ والسلام کو حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام سے بہت زیادہ محبت تھی اس لئے ان کے ساتھ ان کے بھائی حسد کرتے تھے اور حضرت یعقوب علیہ الصلوۃ والسلام چونکہ یہ بات جانتے تھے اس لئے جب حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ خواب دیکھا تو حضرت یعقوب علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا اے میرے بچے! اپنا خواب اپنے بھائیوں کے سامنے بیان نہ کرنا کیونکہ وہ اس کی تعبیر کو سمجھ لیں گے تووہ تمہارے خلاف کوئی سازش کریں گے اور تمہاری ہلاکت کی کوئی تدبیر سوچیں گے۔ (خازن یوسف تحت الایۃ: ۵ ۳ / ۴) حضرت علامہ عبداللہ بن احمد نسفی رحمۃ اللہ تعالی علیہ اس ایت کی تفسیر میں فرماتے ہیں ’’حضرت یعقوب علیہ الصلوۃ والسلام جانتے تھے کہ اللہ تعالی حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کو نبوت کے لئے منتخب فرمائے گا اور دونوں جہان کی نعمتیں اور شرف عنایت کرے گا اس لئے آپ کو حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف ان کے بھائیوں کی طرف سے حسد کا اندیشہ ہوا اور اپ نے حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام سے فرمایا کہ اگر اپ نے اپنے بھائیوں سے اپنا خواب بیان کیا تو وہ تمہارے خلاف سازش کریں گے۔ (مدارک یوسف تحت الایۃ: ۵ ص۵۲۰) خواب کس سے بیان کرنا چاہئے اس سے معلوم ہو اکہ انسان جب کوئی اچھا خواب دیکھے تو ا س کے بارے میں صرف اس شخص کو خبر دے کہ جو اس سے محبت رکھتا ہو یا عقلمند ہو اور اس سے حسد نہ کرتا ہو اور اگر برا خواب دیکھے تو اسے کسی سے بیان نہ کرے۔ (صاوی یوسف تحت الایۃ: ۵ ۳ / ۹۴۲)صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’اچھا خواب اللہ تعالی کی طرف سے ہوتاہے جب تم میں سے کوئی پسندیدہ خواب دیکھے تو اس کا ذکر صرف اسی سے کرے جو اس سے محبت رکھتا ہو اور اگر ایسا خواب دیکھے کہ جو اسے پسندنہ ہو تو اس کے شر سے اور شیطان کے شر سے اسے پناہ مانگنی چاہئے اور (اپنی بائیں طرف ) تین مرتبہ تھتکاردے اور اس خواب کو کسی سے بیان نہ کرے تو وہ کوئی نقصان نہ دے گا۔ (بخاری کتاب التعبیر باب ما اذا رای ما یکرہ فلا یخبر بہا ولا یذکرہا ۴ / ۴۲۳ الحدیث: ۷۰۴۴ مسلم کتاب الرویا ص۱۲۴۲ الحدیث: ۳(۲۲۶۱)) {ان الشیطن للانسان عدو مبین:بیشک شیطان آدمی کا کھلا دشمن ہے۔} ایت کے اس حصے میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کے بھائی اگر حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کو اذیت اور تکلیف پہنچانےکی کوشش کریں گے تو اس کا سبب شیطانی وسوسہ ہوگا۔ (خازن یوسف تحت الایۃ: ۵ ۳ / ۴)