Surah Yusuf Ayat 6 (12:6)
Joseph · Juz 12 · Makki
وَ كَذٰلِكَ یَجْتَبِیْكَ رَبُّكَ وَ یُعَلِّمُكَ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ وَ یُتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكَ وَ عَلٰۤى اٰلِ یَعْقُوْبَ كَمَاۤ اَتَمَّهَا عَلٰۤى اَبَوَیْكَ مِنْ قَبْلُ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَؕ-اِنَّ رَبَّكَ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ 6
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور اسی طرح تیرا رب تمہیں منتخب فرمالے گااور تجھے باتوں کا انجام نکا لنا سکھائے گا اور تجھ پر اور یعقوب کے گھر والوں پراپنا احسان مکمل فرمائے گا جس طرح اس نے پہلے تمہارے باپ دادا ابراہیم اور اسحق پر اپنی نعمت مکمل فرمائی بیشک تیرا رب علم والا،حکمت والا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اسی طرح تجھے تیرا رب چن لے گا اور تجھے باتوں کا انجام نکا لنا سکھائے گا اور تجھ پر اپنی نعمت پوری کرے گا اور یعقوب کے گھر والوں پر جس طرح تیرے پہلے دونوں باپ دادا ابراہیم اور اسحق پر پوری کی بیشک تیرا رب علم و حکمت والا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{و كذلك:اور اسی طرح۔} حضرت یعقوب علیہ الصلوۃ والسلام نے حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام سے فرمایا ’’جس طرح اس عظمت و شرافت والے خواب کی وجہ سے اللہ تعالی نے تیرا مقام بلند کیا اسی طرح تیرا رب عزوجل تمہیں نبوت و بادشاہت یا اہم کاموں کے لئے منتخب فرما لے گا۔ بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ’’ اجتباء یعنی اللہ تعالی کا کسی بندے کو چن لینا ‘‘کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالی کسی بندے کو فیض ربانی کے ساتھ خاص کرے جس سے اس کو طرح طرح کے کرامات و کمالات محنت و کوشش کے بغیر حاصل ہوں یہ مرتبہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے ساتھ خاص ہے اور ان کی بدولت ان کے مقربین صدیقین شہدا اور صالحین رحمۃ اللہ تعالی علیہم بھی اس نعمت سے سرفراز کئے جاتے ہیں۔(خازن یوسف تحت الایۃ: ۶ ۳ / ۴ بیضاوی یوسف تحت الایۃ: ۶ ۳ / ۲۷۴ ملتقطا) {و یعلمك من تاویل الاحادیث:اور تجھے باتوں کا انجام نکا لنا سکھائے گا۔} ایت میں مذکور ’’ تاویل الاحادیث‘‘ سے خوابوں کی تعبیر نکالنا مراد ہے کیونکہ خواب اگر سچے ہوں تو وہ فرشتوں کی باتیں ہیں اور اگر سچے نہ ہوں تو وہ نفس یا شیطان کی باتیں ہیں۔ بعض مفسرین کے نزدیک ’’ تاویل الاحادیث‘‘ سے سابقہ اسمانی کتابوں اور انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی احادیث کی مبہم باتوں کو ظاہر فرمانا مراد ہے۔ پہلا قول صحیح ہے۔(ابوسعود یوسف تحت الایۃ: ۶ ۳ / ۸۱) {و یتم نعمته: اور وہ اپنا احسان مکمل فرمائے گا۔}امام فخرالدین رازی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ’’ اس ایت میں ’’ یجتبیك‘‘ سے نبوت کے لئے منتخب فرمانا مراد لیا جائے تو اس صور ت میں نعمت پوری کرنے سے مراد دنیا اور اخرت کی سعادتیں عطا فرمانا ہے دنیا کی سعادتیں یہ ہیں۔ (1) اولاد کی کثرت۔ (2) خدمت گاروں اور پیروی کرنے والوں کی کثرت۔ (3) مال اور شان وشوکت میں وسعت۔ (4) مخلوق کے دلوں میں عظمت و جلال کی زیادتی۔ (5) اچھی ثنا اور تعریف۔ اخرت کی سعادتیں یہ ہیں۔ (1) کثیر علوم۔ (2) اچھے اخلاق۔ (3) اللہ تعالی کی معرفت میں استغراق۔ اور اگر ’’ یجتبیك‘‘ سے بلند درجات تک پہنچانا مراد لیا جائے تو اس صورت میں نعمت پوری کرنے سے مراد نبوت عطا فرمانا ہے اس کی تائید ان باتوں سے ہوتی ہے۔ (1)…نعمت پورا کرنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ نعمت کو اس طرح کامل کر دیاجائے کہ وہ ہر قسم کے نقصان سے محفوظ ہو اور انسان کے حق میں ایسی نعمت صرف نبوت ہے مخلوق کے تمام مناصب نبوت کے منصب کے مقابلے میں ناقص ہیں۔ (2)…حضرت یعقوب علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا :جس طرح اس نے پہلے تمہارے باپ دادا ابراہیم اور اسحق پر اپنی نعمت مکمل فرمائی یہ بات واضح ہے کہ وہ نعمت تامہ جس کی وجہ سے حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام اور حضرت اسحق علیہ الصلوۃ والسلام کو باقی انسانوں سے امتیاز حاصل ہوا وہ نبوت ہے لہذا اس ایت میں تکمیل نعمت سے مراد نبوت ہے۔(تفسیرکبیر یوسف تحت الایۃ: ۶ ۶ / ۴۲۱ ملتقطا)