Surah Ibrahim Ayat 3 (14:3)
Abraham · Juz 13 · Makki
الَّذِیْنَ یَسْتَحِبُّوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا عَلَى الْاٰخِرَةِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًاؕ-اُولٰٓىٕكَ فِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ 3
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariجو آخرت کی بجائے دنیا کی زندگی کو پسند کرتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روکتے ہیں اور اس میں ٹیڑھا پن تلاش کرتے ہیں وہ دور کی گمراہی میں ہیں۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanجنہیں آخرت سے دنیا کی زندگی پیاری ہے اور اللہ کی راہ سے روکتے اور اس میں کجی چاہتے ہیں وہ دور کی گمراہی میں ہیں ۔
Tafseer (Urdu)
{الذین یستحبون الحیوة الدنیا:جو دنیا کی زندگی کو پسند کرتے ہیں ۔} اس ایت میں ان کفار کے چند اوصاف بیان کئے گئے ہیں جنہیں ا س سے پہلی ایت میں اخرت کے شدید عذاب کی وعید سنائی گئی چنانچہ فرمایا گیا کہ وہ دنیا کی زندگی کو پسند کرتے ہیں اور اسے اخروی زندگی پر ترجیح دیتے ہیں لوگوں کو اللہ تعالی کا دین قبول کرنے سے روکتے ہیں اور دین میں ٹیڑھا پن تلاش کرتے ہیں ۔ دین میں ٹیڑھا پن تلاش کرنے کی صورتیں : دین میں ٹیڑھا پن تلاش کرنے کی دوصورتیں ہیں ایک یہ کہ لوگوں کو سیدھا راستہ اختیار کرنے سے روک دینا ۔ دوسری یہ کہ حق مذہب کے بارے میں لوگوں کے دلوں میں شکوک و شبہات ڈالنے کی اور جس قدر ہو سکے حیلوں وغیرہ کا سہارا لے کر حق مذہب میں برائیاں ظاہر کرنے کی کوشش کرنا۔(تفسیرکبیر ابراہیم تحت الایۃ: ۳ ۷ / ۶۰) علم کا لبادہ اوڑھ کر حق مذہب سے بھٹکانے والے عبرت پکڑیں : اس سے معلوم ہوا کہ جو اخرت کی بجائے دنیا کی زندگی کو پسند کرتے ہیں وہ عملی طور پرگمراہ ہیں اور جو لوگوں کو اللہ تعالی کے راستے اور دین سے روکتے ہیں وہ گمراہ کرنے والے ہیں ۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں’’جو شخص بھی دنیا کی زیب و زینت اورا س کی رنگینیوں کو اخرت کی نعمتوں پر ترجیح دے اور اخرت کی بجائے دنیا میں ہی رہنے کو پسند کرے اورحضور پر نورصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے لائے ہوئے دین سے لوگوں کو روکے تو وہ اس ایت کے عموم میں داخل ہے وہ خود گمراہ اور لوگوں کو گمراہ کرنے والا ہے۔ (قرطبی ابراہیم تحت الایۃ: ۳۵ / ۲۳۹ الجزء التاسع) اس ایت سے ان لوگوں کو عبرت پکڑنی چاہیے جو علم کا لبادہ اوڑھ کر لوگوں کو مذہب حق سے دور کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں اور دین میں نئے نئے مذہب نکال کر امت کی وحدت کا شیرازہ بکھیرنے کی سعی کر رہے ہیں۔ حضرت زیاد بن حدیر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا ’’ تم جانتے ہو کہ اسلام کو کیاچیز تباہ کرے گی میں نے کہا: نہیں ۔ ارشاد فرمایا کہ ’’اسلام کو عالم کی لغزش منافق کا قران میں جھگڑنا اور گمراہ کن سرداروں کی حکومت تباہ کرے گی۔(سنن دارمی باب فی کراہیۃ اخذ الرای ۱ / ۸۲ الحدیث: ۲۱۴) حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےحضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’مجھے اپنی امت پر سب سے زیادہ خوف قوم کے ان پیشواوں اور سربراہوں سے ہے جو گمراہ کرنے والے ہیں ۔ (جامع صغیر حرف الہمزۃ ص۱۳۳ الحدیث: ۲۱۹۰) علامہ عبد الروف مناوی رحمۃاللہ تعالی علیہ نقل کرتے ہیں کہ سرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپنی امت کی اصلاح پر بہت حریص اور امت کی مستقل بھلائی کی رغبت رکھتے تھے اس لئے اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپنی امت پر قوم کے گمراہ کن سرداروں کی وجہ سے فکرمند رہتے تھے ۔ قوم کے پیشواوں اور سربراہوں کی گمراہی نظام کو خراب کر دیتی ہے کیونکہ یہ لوگ قوم کے قائدین ہوتے ہیں اور جب یہ گمراہ ہوں گے تو قوم بھی گمراہی میں مبتلا ہو گی اسی طرح جب علماء میں بھی گمراہیاں ہوں گی تو عوام کا ایک بہت بڑا حصہ گمراہی کا شکار ہو جائے گا۔ (فیض القدیر حرف الہمزۃ ۲ / ۵۳۱ تحت الحدیث: ۲۱۹۰) اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃاللہ تعالی علیہ لکھتے ہیں’’ائمہ دین فرماتے ہیں’’اے گروہ علماء ! اگرتم مستحبات چھوڑ کر مباحات کی طرف جھکو گے تو عوام مکروہات پرگریں گے اگرتم مکروہ کروگے تو عوام حرام میں پڑیں گے اگرتم حرام کے مرتکب ہوگے توعوام کفرمیں مبتلا ہوں گے۔ یہ لکھنے کے بعد فرماتے ہیں ’’بھائیو! للہ اپنے اوپر رحم کرو اپنے اوپر رحم نہیں کرنا چاہتے تو امت مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پررحم کرو۔ چرواہے کہلاتے ہو بھیڑئیے نہ بنو۔ (فتاوی رضویہ ۲۴ / ۱۳۲-۱۳۳ ملخصا)