Surah Ibrahim Ayat 32 (14:32)
Abraham · Juz 13 · Makki
اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخْرَ جَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّكُمْۚ-وَ سَخَّرَ لَكُمُ الْفُلْكَ لِتَجْرِیَ فِی الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖۚ-وَ سَخَّرَ لَكُمُ الْاَنْهٰرَ 32
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاللہ ہی ہے جس نے آسمان اور زمین بنائے اور آسمان سے پانی اتارا تو اس کے ذریعے تمہارے کھانے کیلئے کچھ پھل نکالے اور کشتیوں کوتمہارے قابو میں دیدیا تا کہ اس کے حکم سے دریا میں چلے اور دریا تمہارے قابو میں دیدئیے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاللہ ہے جس نے آسمان اور زمین بنائے اور آسمان سے پانی اتارا تو اس سے کچھ پھل تمہارے کھانے کو پیدا کیے اور تمہارے لیے کشتی کو مسخر کیا کہ اس کے حکم سے دریا میں چلے اور تمہارے لیے ندیاں مسخر کیں ۔
Tafseer (Urdu)
{الله:اللہ ہی ہے۔}اس سے پہلی ایات میں سعادت مندوں اور بدبختوں کے احوال بیان ہوئے اور چونکہ سعادت کے حصول کا اہم ترین ذریعہ اللہ تعالی کی ذات وصفات کی معرفت ہے اور بد بختی کا اہم ترین سبب اس معرفت سے محرومی ہے اس لئے سعادت مندوں اور بدبختوں کے احوال کے بعد وہ دلائل بیان فرمائے گئے ہیں جو اللہ تعالی کے موجود ہونےاور اس کے علم و قدرت کے کمال پر دلالت کرتے ہیں ۔اس ایت اور اس کے بعد والی دو ایات میں کل دس دلائل بیان ہوئے ہیں (1)اسمانوں کو پیدا کرنا۔(2)زمین کو پیدا کرنا۔(3) آسمان سے پانی اتار کراس کے ذریعے لوگوں کے کھانے کیلئے کچھ پھل نکالنا۔ (4) کشتیوں کولوگوں کے قابو میں دینا تا کہ وہ اللہ تعالی کے حکم سے دریا میں چلے۔ (5) دریا لوگوں کے قابو میں دینا۔(67) سورج اور چاندکو لوگوں کے لئے کام پر لگادینا جو برابر چل رہے ہیں ۔ (89) لوگوں کے لیے رات اور دن کومسخر کردینا۔(10) لوگوں کو بہت کچھ ان کی منہ مانگی چیزیں دینا۔ (تفسیرکبیر ابراہیم تحت الایۃ: ۳۲ ۷ / ۹۶) {الله الذی خلق السموت و الارض:اللہ ہی ہے جس نے آسمان اور زمین بنائے۔} اس ایت کا معنی یہ ہے کہ اللہ عزوجل ہی ہے جس نے اسمان اور زمین کو بغیر کسی چیز کے پیدا فرمایا اور اسمان سے بارش کا پانی نازل فرمایا جس کے ذریعے درختوں اور کھیتیوں کی نشوونما ہوئی تو ان پر تمہارے کھانے کے لئے پھل اگے اور کشتیوں کوتمہارے قابو میں دیدیا تا کہ وہ اللہ عزوجل کے حکم سے دریا میں چلیں تم ان کشتیوں پر سوار ہوتے ہو اوران کے ذریعے ایک شہر سے دوسرے شہر اپنے سازو سامان کی نقل و حمل کرتے ہو اور دریاوں کا پانی بھی تمہار ے قابو میں دیدیا ۔خلاصہ یہ ہے کہ اے شرک کرنے والو! عبادت اور اطاعت کا مستحق وہی ہے جس کے یہ اوصاف ہیں تمہارے معبود بت جو نہ اپنے اپ کو اورنہ کسی اور کو نفع نقصان پہنچانے کی قدرت رکھتے ہیں وہ ہر گز عبادت کے لائق نہیں ۔ (تفسیر طبری ابراہیم تحت الایۃ: ۳۲ ۷ / ۴۵۷)