Surah Ibrahim Ayat 39 (14:39)
Abraham · Juz 13 · Makki
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ وَهَبَ لِیْ عَلَى الْكِبَرِ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَؕ- اِنَّ رَبِّیْ لَسَمِیْعُ الدُّعَآءِ 39
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتمام تعریفیں اس اللہ کیلئے ہیں جس نے مجھے بڑھاپے میں اسمٰعیل و اسحاق دئیے۔ بیشک میرا رب دعا سننے والا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanسب خوبیاں اللہ کو جس نے مجھے بڑھاپے میں اسمٰعیلو اسحاق دیئے بیشک میرا رب دعا سننے والا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{الحمد لله:تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں ۔} حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک اور فرزند کی دعا کی تھی اللہ تعالی نے قبول فرمائی تو آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کا شکر ادا کیا اور بارگاہ الہی میں عرض کیا ’’تمام تعریفیں اس اللہ تعالی کیلئے ہیں جس نے مجھے بڑھاپے کے باوجود حضرت اسمعیل اور حضرت اسحاق علیہما الصلوۃ والسلام دئیے۔ بیشک میرا رب عزوجل میری دعا قبول فرمانے والا ہے۔ حضرت اسماعیل علیہ الصلوۃ والسلام کی ولادت اس وقت ہوئی جب حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی عمر99 برس ہو چکی تھی اور حضرت اسحاق علیہ الصلوۃ والسلام کی ولادت اس وقت ہوئی جب حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی عمر مبارک 112 برس ہو چکی تھی۔ (خازن ابراہیم تحت الایۃ: ۳۹ ۳ / ۸۹ جلالین ابراہیم تحت الایۃ: ۳۹ ص۲۰۹ ملتقطا) بیٹیوں کی پرورش کے فضائل: اس ایت سے معلوم ہوا کہ بیٹا اللہ عزوجل کی بڑی نعمت ہے خصوصا جب کہ نیک اور پرہیز گار ہو کیونکہ اس سے دنیا و اخرت دونوں کامل ہو جاتی ہیں لیکن بیٹیوں سے گھبرانا مومن کی شان نہیں ۔ ترغیب کے لئے بیٹیوں کی پرورش کے 2 فضائل ملاحظہ ہوں ۔ (1)… حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’ جس شخص کی بیٹی ہو پھر نہ تو اسے زندہ دفن کیا اور نہ اسے ذلیل کیا اور نہ اس پر اپنے بیٹے کو ترجیح دی تو اللہ تعالی اسے جنت میں داخل کرے گا ۔ (ابوداود کتاب الادب باب فی فضل من عال یتیما ۴ / ۴۳۵ الحدیث: ۵۱۴۶) (2)… حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہماسے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’جو تین بیٹیوں یا تین بہنوں کی پرورش کرے کہ انہیں ادب سکھائے ان پر مہربانی کرے حتی کہ اللہ تعالی انہیں بے نیاز کردے تو اللہ عزوجل اس کے لیے جنت واجب کردیتا ہے۔ ایک شخص نے عرض کی’’ یا رسول اللہ ! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کیا دو بیٹیوں یا بہنوں کی پرورش کرنے والے کویہ ثواب ملے گا ارشاد فرمایا’’ہاں دو بیٹیوں یا بہنوں کی پرورش کرنے پر بھی یہی ثواب ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہمافرماتے ہیں اگر لوگ ایک بیٹی یا بہن کے بارے میں پوچھتے تو حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرما دیتے کہ ایک بیٹی کی پرورش پر بھی یہی ثواب ہے۔ (شرح السنہ کتاب ا لبر والصلۃ باب ثواب کافل الیتیم ۶ / ۴۵۲ الحدیث: ۳۳۵۱ ملخصا)