Surah Taha Ayat 11 (20:11)
Ta-Ha · Juz 16 · Makki
فَلَمَّاۤ اَتٰىهَا نُوْدِیَ یٰمُوْسٰىﭤ 11
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariپھر وہ جب آگ کے پاس آئے تو ندا فرمائی گئی کہ اے موسیٰ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanپھر جب آگ کے پاس آیا ندا فرمائی گئی کہ اے موسیٰ۔
Tafseer (Urdu)
{فلما اتىها:پھر وہ جب آگ کے پاس ائے۔} اس ایت اور ا س کے بعد والی ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ جب حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام اس اگ کے پاس تشریف لائے تو وہاں اپ علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک سرسبز و شاداب درخت دیکھا جو اوپر سے نیچے تک انتہائی روشن تھا اور اپ علیہ الصلوۃ والسلام جتنا اس کے قریب جاتے اتنا وہ دور ہوجاتا اور جب اپ علیہ الصلوۃ والسلام ٹھہر جاتے ہیں تو وہ قریب ہوجاتا اس وقت آپ علیہ الصلوۃ والسلام کو ندا فرمائی گئی کہ اے موسی! بیشک میں تیرا رب ہوں تو تو اپنے جوتے اتار دے کہ اس میں عاجزی کا اظہار مقدس جگہ کا احترام اور پاک وادی کی خاک سے برکت حاصل کرنے کا موقع ہے بیشک تو اس وقت پاک وادی طوی میں ہے۔( مدارک طہ تحت الایۃ: ۱۱-۱۲ ص۶۸۷) ایت’’ فاخلع نعلیك‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات: اس ایت اور ا س کی تفسیر سے چار باتیں معلوم ہوئیں : (1)…پاک اور مقدس جگہ پر جوتے اتار کر حاضر ہونا چاہئے کہ یہ ادب کے زیادہ قریب ہے۔ (2)… اللہ تعالی کی بارگاہ میں دعا اور مناجات کرتے وقت جوتے اتار دینے چاہئیں ۔ (3)…مقدس جگہ سے برکت حاصل کرنے کے لئے اس کے ساتھ اپنابدن مس کرسکتے ہیں ۔ (4)…مقدس جگہ کا ادب و احترام کرنا چاہئے کہ یہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی سنت ہے۔ اسی وجہ سے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اور اولیاء عظام رحمۃ اللہ تعالی علیہم کے مزارات اور اس سرزمین کا ادب کیا جاتا ہے جہاں وہ ارام فرما ہیں ۔ ہمارے بزرگان دین مقدس مقامات کا ادب کس طرح کیا کرتے تھے اس سلسلے میں ایک حکایا ت ملاحظہ ہو چنانچہ حضرت امام شافعی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں : میں نے (مدینہ منورہ میں ) حضرت امام مالک رضی اللہ تعالی عنہ کے دروازے پر خراسان کے گھوڑوں کا ایک ایسا ریوڑ دیکھا کہ میں نے اس سے اچھا نہیں دیکھا تھا۔ میں نے حضرت امام مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے عرض کی: یہ کتنا خوبصورت ہے۔ انہوں نے فرمایا ’’اے ابو عبداللہ! یہ میری طرف سے تمہارے لئے تحفہ ہے۔ میں نے عرض کی: اپ اس میں سے ایک جانور اپنی سواری کے لئے رکھ لیں ۔ اپ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا: مجھے اللہ تعالی سے حیا اتی ہے کہ میں اس مبارک مٹی کو جانور کے (اوپر سوار ہو کر اس کے) کھروں سے روندوں جس میں اللہ تعالی کے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم(کا روضہ انور) موجود ہے۔( احیاء علوم الدین کتاب العلم الباب الثانی فی العلم المحمود والمذموم واقسامہما۔۔۔ الخ ۱ / ۴۸) ہاں ہاں رہ مدینہ ہے غافل ذرا تو جاگ او پاوں رکھنے والے یہ جا چشم و سر کی ہے