Surah Taha Ayat 117 (20:117)
Ta-Ha · Juz 16 · Makki
فَقُلْنَا یٰۤاٰدَمُ اِنَّ هٰذَا عَدُوٌّ لَّكَ وَ لِزَوْجِكَ فَلَا یُخْرِجَنَّكُمَا مِنَ الْجَنَّةِ فَتَشْقٰى 117
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتو ہم نے فرمایا، اے آدم! بیشک یہ تیرا اور تیری بیوی کا دشمن ہے تو یہ ہرگز تم دونوں کو جنت سے نہ نکال دے ورنہ تو مشقت میں پڑجائے گا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتو ہم نے فرمایا اے آدم بیشک یہ تیرا اور تیری بی بی کا دشمن ہے تو ایسا نہ ہو کہ وہ تم دونوں کو جنت سے نکال دے پھر تو مشقت میں پڑے ۔
Tafseer (Urdu)
{فقلنا یادم:تو ہم نے فرمایا اے آدم!}اس ایت اور ا س کے بعد والی دو ایات کا خلاصہ یہ ہے کہ ابلیس کے انکار کے بعد اللہ تعالی نے حضرت ادم علیہ الصلوۃ والسلام سے فرمایا ’’اے آدم! علیہ الصلوۃ والسلام بیشک یہ ابلیس تیرا اور تیری بیوی کا دشمن ہے تو یہ ہرگز تم دونوں کو جنت سے نکال دئیے جانے کا سبب نہ بن جائے ورنہ تم مشقت میں پڑجاو گے اور اپنی غذا اور خوراک کے لئے زمین جوتنے کھیتی کرنے دانہ نکالنے پیسنے پکانے کی محنت میں مبتلا ہو جاو گے۔ بیشک تیرے لیے یہ ہے کہ تو جنت میں بھوکا نہیں ہوگا کیونکہ جنت کی تمام نعمتیں ہر وقت حاضر ہوں گی اور نہ ہی تو اس میں ننگا ہوگا کیونکہ تمام ملبوسات جنت میں موجود ہوں گے اور تیرے لئے یہ بھی ہے کہ تو جنت میں کبھی پیاسا نہ ہوگاکیونکہ اس میں ہمیشہ کے لئے نہریں جاری ہیں اور نہ تجھے جنت میں دھوپ لگے گی کیونکہ جنت میں سور ج نہیں ہے اور اہل جنت ہمیشہ رہنے والے دراز سائے میں ہوں گے الغرض ہر طرح کا عیش و راحت جنت میں موجود ہے اور اس میں محنت اور کمائی کرنے سے بالکل امن ہے(لہذا تم شیطان کے وسوسوں سے بچ کر رہنا)۔( خازن طہ تحت الایۃ: ۱۱۷-۱۱۹۳ / ۲۶۵-۲۶۶ روح البیان طہ تحت الایۃ:۱۱۷-۱۱۹۵ / ۴۳۵-۴۳۶ ملتقطا) شیطان کی حضرت ادم علیہ الصلوۃ والسلام سے دشمنی کی وجہ: آیت نمبر 117 میں شیطان کا حضرت آدم علیہ الصلوۃ والسلام کو سجدہ نہ کرنا آپ علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ اس کی دشمنی کی دلیل قرار دیا گیا ہے یہاں اس دشمنی کی وجہ وضاحت سے بیان کی جاتی ہے ۔ جب ابلیس نے حضرت ادم علیہ الصلوۃ والسلام پر اللہ تعالی کا انعام واکرام دیکھا تو وہ ان سے حسد کرنے لگا اور یہ حسد ا س کی دشمنی کا ایک سبب تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ جسے کسی سے حسد ہو تو وہ اس کا دشمن بن جاتا ہے اور وہ اس کی ہلاکت چاہتا اور اس کا حال خراب کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ سورہ طہ کی ایت نمبر 117 تا 119 سے حاصل ہونے والی معلومات: ان ایات سے تین باتیں معلوم ہوئیں (1)… فضل و شرف والے کی فضیلت کو تسلیم نہ کرنا اور اس کی تعظیم و احترام بجا لانے سے اعراض کرنا حسد و عداوت کی دلیل ہے۔ (2)… حضرت ادم علیہ الصلوۃ والسلام اسی مشہور جنت میں رکھے گئے تھے جو بعد قیامت نیکوں کو عطا ہو گی وہ کو ئی دنیوی باغ نہ تھا کیونکہ اس باغ میں تو دھوپ بھی ہوتی ہے اور وہاں بھوک بھی لگتی ہے ۔ (3)…جنتی نعمتوں کی بڑی اہمیت ہے اس لئے ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ ان نعمتوں کی قدر کرے اور شیطان کی پیروی کر کے ان عظیم نعمتوں سے خود کو محروم نہ کرے۔