Surah Taha Ayat 120 (20:120)
Ta-Ha · Juz 16 · Makki
فَوَسْوَسَ اِلَیْهِ الشَّیْطٰنُ قَالَ یٰۤاٰدَمُ هَلْ اَدُلُّكَ عَلٰى شَجَرَةِ الْخُلْدِ وَ مُلْكٍ لَّا یَبْلٰى 120
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتو شیطان نے اسے وسوسہ ڈالا ، کہنے لگا: اے آدم! کیا میں تمہیں ہمیشہ رہنے کے درخت اور ایسی بادشاہت کے متعلق بتادوں جو کبھی فنا نہ ہوگی۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتو شیطان نے اسے وسوسہ دیا بولا اے آدم کیا میں تمہیں بتادوں ہمیشہ جینے کا پیڑ اور وہ بادشاہی کہ پرانی نہ پڑے۔
Tafseer (Urdu)
{فوسوس الیه الشیطن:تو شیطان نے اسے وسوسہ ڈالا۔} اس سے پہلی ایات میں اللہ تعالی نے حضرت ادم علیہ الصلوۃ والسلام کی عظمت بیان فرمائی کہ اس نے انہیں فرشتوں سے سجدہ کروایا اور اس کے بعد بیان فرمایا کہ اللہ تعالی نے حضرت ادم علیہ الصلوۃ والسلام اور ان کی زوجہ حضرت حوا رضی اللہ تعالی عنہاکو شیطان کی دشمنی کی پہچان کروا دی اور جنتی نعمتوں کی اہمیت بیان فرما دی اور اب اس ایت میں بیان فرمایا جا رہا ہے کہ شیطان نے حضرت ادم علیہ الصلوۃ والسلام کو وسوسہ ڈالا اور کہنے لگا: اے آدم! علیہ الصلوۃ والسلام کیا میں اپ کو ایک ایسے درخت کے بارے میں بتادوں جسے کھا کر کھانے والے کو دائمی زندگی حاصل ہو جاتی ہے اور ایسی بادشاہت کے متعلق بتادوں جو کبھی فنا نہ ہوگی اور اس میں زوال نہ ائے گا۔( تفسیرکبیر طہ تحت الایۃ: ۱۲۰ ۸ / ۱۰۷ جلالین طہ تحت الایۃ: ۱۲۰ ص۲۶۸ ملتقطا)