Surah Taha Ayat 121 (20:121)
Ta-Ha · Juz 16 · Makki
فَاَكَلَا مِنْهَا فَبَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَ طَفِقَا یَخْصِفٰنِ عَلَیْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ٘-وَ عَصٰۤى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى 121
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتو ان دونوں نے اس درخت میں سے کھا لیا تو ان پر ان کی شرم کے مقام ظاہر ہوگئے اور وہ جنت کے پتے اپنے اوپر چپکانے لگے اور آدم سے اپنے رب کے حکم میں لغزش واقع ہوئی تو جو مقصد چاہا تھا وہ نہ پایا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتو ان دونوں نے اس میں سے کھالیا اب ان پر ان کی شرم کی چیزیں ظاہر ہوئیں اور جنت کے پتے اپنے اوپر چپکانے لگے اور آدم سے اپنے رب کے حکم میں لغزش واقع ہوئی تو جو مطلب چاہا تھا اس کی راہ نہ پائی۔
Tafseer (Urdu)
{فاكلا منها:تو ان دونوں نے اس درخت میں سے کھالیا۔} ابلیس کے وسوسہ دلانے کے بعد حضرت ادم علیہ الصلوۃ والسلام اور حضرت حوا رضی اللہ تعالی عنہانے اس درخت میں سے کھا لیا تو ان کے جنتی لباس اتر گئے اور ان پر ان کی شرم کے مقام ظاہر ہوگئے اور وہ اپنا ستر چھپانے اور جسم ڈھانکنے کے لئے جنت کے پتے اپنے اوپر چپکانے لگے اور درخت سے کھا کر حضرت آدم علیہ الصلوۃ والسلام سے اپنے رب عزوجل کےحکم میں لغزش واقع ہوئی توانہوں نے اس سے جو مقصد چاہا تھا وہ نہ پایا اور اس درخت کے کھانے سے انہیں دائمی زندگی نہ ملی۔( خازن طہ تحت الایۃ: ۱۲۱ ۳ / ۲۶۶) انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی عصمت سے متعلق اہلسنت و جماعت کا عقیدہ: یاد رہے کہ حضرت ادم علیہ الصلوۃ والسلام سے لغزش کا واقع ہونا ارادے اور نیت سے نہ تھا بلکہ اپ علیہ الصلوۃ والسلام کاارادہ اور نیت حکم کو پورا کرنے اور اس چیز سے بچنے کا تھا جو جنت سے نکال دئیے جانے کا سبب بنے لہذا کسی شخص کے لئے تاویل کے بغیر حضرت ادم علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف نافرمانی کی نسبت کرنا جائز نہیں ۔ اللہ تعالی حضرت ادم علیہ الصلوۃ والسلام سے راضی ہے اور اپ علیہ الصلوۃ والسلام نبوت سے پہلے اور نبوت کے بعد بھی اللہ تعالی کے کسی حکم کی مخالفت کرنے سے معصوم ہیں۔( صاوی طہ تحت الایۃ: ۱۲۱ ۴ / ۱۲۸۳) یہاں انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی عصمت سے متعلق اہلسنت و جماعت کے عقیدے کے بارے میں اعلی حضرت امام احمد ر ضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے ایک کلام کا خلاصہ ملاحظہ ہو ’’اہل حق یعنی اہل اسلام اور اہلسنت وجماعت شاہراہ عقیدت پر چل کر منزل مقصود کو پہنچے جبکہ سرکشی کرنے والے اور اہل باطل تفصیلات میں ڈوب کر اور ان میں ناحق غور کرکے گمراہی کے گڑھے اور بددینی کی گمراہیوں میں جا پڑے انہوں نے کہیں دیکھا ’’ و عصى ادم ربه فغوى‘‘ کہ اس میں عصیاں اور بظاہر اللہ تعالی کے حکم کی تعمیل سے رو گردانی کی نسبت حضرت آدم علیہ السلام کی جانب کی گئی ہے۔ کہیں سنا ’’لیغفر لك الله ما تقدم من ذنبك و ما تاخر‘‘ جس سے ذنب یعنی گناہ اور ا س کی بخشش کی نسبت کا حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی جناب والا کی جانب گمان ہوتا ہے۔ کبھی حضرت موسی علیہ السلام اور قوم فرعون کے قبطی کا قصہ یاد آیا کہ آپ نے قبطی کو ظلم پر آمادہ پاکر ایک گھونسا مارا اور وہ قبطی (مر کر) قبر کی گہرائی میں پہنچا۔ کبھی حضرت داؤد علیہ الصلوۃ والسلام اور ان کے ایک امتی اور یاہ کا فسانہ سن پایا حالانکہ یہ حضرت داود علیہ الصلوۃ والسلام پر یہودیوں کا الزام تھا جسے انہوں نے خوب اچھالا اور عوام الناس کی زبان پر عام ہوگیا حتی کہ اس کی شہرت کی بنا پر احوال کی تحقیق اور تفتیش کے بغیر بعض مفسرین نے اس واقعہ کو من و عن بیان فرما دیا جب کہ امام رازی فرماتے ہیں کہ یہ واقعہ میری تحقیق میں سراسر باطل و لغو ہے۔ غرض بے عقل بے دینوں اور بے دین بدعقلوں نے یہ افسانہ سن پایا توچون و چرا کرنے لگے پھر خدا و رسول کی ناراضی کے سوا اور بھی کچھ پھل پایا اور الٹا ’’خضتم كالذی خاضوا‘‘ (اور تم بے ہودگی میں پڑے جیسے وہ پڑے تھے)نے ’’و لـكن حقت كلمة العذاب على الكفرین‘‘ (مگر عذاب کا قول کافروں پر ٹھیک اترا)کا دن دکھایا۔ مسلمان ہمیشہ یہ بات ذہن نشین رکھیں کہ حضرات انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام کبیرہ گناہوں سے مطلقا اور گناہ صغیرہ کے عمدا ارتکاب اور ہر ایسے امر سے جو مخلوق کے لیے باعث نفرت ہو اور مخلوق خدا ان کے باعث ان سے دور بھاگے نیز ایسے افعال سے جو وجاہت و مروت اور معززین کی شان و مرتبہ کے خلاف ہیں قبل نبوت اور بعد نبوت بالاجماع معصوم ہیں ۔( فتاوی رضویہ رسالہ: اعتقاد الاحباب عقیدہ خامسہ ۲۹ / ۳۵۹-۳۶۰)