Surah Taha Ayat 15 (20:15)
Ta-Ha · Juz 16 · Makki
اِنَّ السَّاعَةَ اٰتِیَةٌ اَكَادُ اُخْفِیْهَا لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا تَسْعٰى 15
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariبیشک قیامت آنے والی ہے ۔ قریب ہے کہ میں اسے چھپارکھوں تاکہ ہر جان کو اس کی کوشش کا بدلہ دیا جائے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبیشک قیامت آنے والی ہے قریب تھا کہ میں اسے سب سے چھپاؤں کہ ہر جان اپنی کوشش کا بدلہ پائے۔
Tafseer (Urdu)
{ان الساعة اتیة:بیشک قیامت آنے والی ہے ۔} اس ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ بیشک قیامت لازمی طور پر آنے والی ہے اور قریب تھا کہ اللہ تعالی اسے سب سے چھپا کر رکھتا اور یہ فرما کر بندوں کو اس کے انے کی خبر بھی نہ دیتا کہ بے شک قیامت انے والی ہے یعنی لوگوں کو اس بات کا علم ہی نہ ہوتا کہ کوئی قیامت کا دن بھی ہے (اگر ایسا ہوتا تو لوگ بالکل ہی غفلت و لاعلمی میں مارے جاتے)۔ لیکن اس کے برعکس انہیں قیامت انے کی خبر دی گئی ہے جس میں حکمت یہ ہے کہ لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ ہر جان کو اس کے اچھے برے اعمال کا بدلہ دیاجائے گا البتہ اس کے ساتھ انہیں متعین وقت نہیں بتایا گیا (کہ وہ بھی کئی اعتبار سے اکثر لوگوں کیلئے غفلت کا سبب بن جاتا لہذا) اس کی جگہ بغیر معین وقت بتائے محض قیامت کی خبر دیدی تاکہ اس کے کسی بھی وقت انے کے خوف سے لوگ گناہوں کوترک کردیں نیکیاں زیادہ کریں اور ہر وقت توبہ کرتے رہیں ۔( مدارک طہ تحت الایۃ: ۱۵ ص۶۸۸ ملتقطا) موت اور قیامت کا وقت چھپائے جانے کی حکمت: یاد رہے کہ اس ایت میں یہ تو بتایا گیا ہے کہ قیامت ائے گی لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ کب ائے گی اسی طرح دیگر ایات میں یہ تو بتایا گیا ہے کہ ہر جاندار کو موت ائے گی لیکن یہ نہیں بتایا گیاکہ کب اور کس وقت ائے گی اس سے معلوم ہوا کہ قیامت اور موت دونوں کے انے کا وقت بندوں سے چھپایا گیا ہے اور ان کا وقت چھپانے میں بھی حکمت ہے جیسے قیامت انے کا وقت چھپانے کی جو حکمت اوپر بیان ہوئی کہ لوگ اس وجہ سے خوفزدہ رہیں گے اور گناہ چھوڑ کر نیکیاں زیادہ کریں گے اور توبہ کرنے میں مصروف رہیں گے یہی حکمت موت کا وقت چھپانے میں بھی ہے کیونکہ جب کسی انسان کو اپنی عمر ختم ہونے اور موت انے کا وقت معلوم ہو گا تو وہ اس وقت کے قریب انے تک گناہوں میں مشغول رہے گا اور جب موت کا وقت انے والا ہو گا تو وہ گناہوں سے توبہ کر کے نیک اعمال کرنے میں مصروف ہو جائے گا اور اس طرح وہ گناہوں کی سزا پانے سے بچ جائے گا اور جب انسان کو اپنی موت کا وقت ہی معلوم نہ ہو گا تو وہ ہر وقت خوف اور دہشت میں مبتلا رہے گا اور یا تو گناہوں کو مکمل طور پر چھوڑ دے گا یا ہر وقت اس ڈر سے گناہوں سے توبہ کرتا رہے گا کہ کہیں ابھی موت نہ ا جائے۔ افسوس! فی زمانہ لوگوں کی اکثریت حشر کے ہولناک دن اور اپنی موت کو یاد کرنے اپنی اخرت کو بہتر بنانے کی جستجو کرنے اور اپنی موت کے لئے تیاری کرنے سے انتہائی غفلت کا شکار ہے اور قیامت کے دن راحت و چین مل جانے اور دنیا میں اپنی عمر زیادہ ہونے کی لمبی لمبی امیدیں باندھے ہوئے ہے۔ اللہ تعالی انہیں ہدایت عطا فرمائے اور اپنی قبر و اخرت کی بہتری کے لئے فوری طور پر بھرپور کوشش کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ نوٹ: یاد رہے کہ قیامت انے کا وقت اللہ تعالی نے اپنے بندوں سے چھپایا ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ تعالی نے اپنے کسی بھی بندے کو اس کی اطلاع نہیں دی بلکہ احادیث سے یہ بات ثابت ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کوقیامت انے کا وقت بھی بتا دیا ہے اور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا قیامت کی نشانیاں بیان فرمانا اور اس کامتعین وقت امت کو نہ بتانا بھی حکمت کے پیش نظر ہے۔